طالبان حکومت کے دور میں افغانستان عالمی تنہائی اور سکیورٹی چیلنجز کا شکار، افغان جریدے کا دعویٰ

news-banner

دنیا - 25 فروری 2026

کابل: افغان جریدے ہشت صبح کی حالیہ رپورٹ کے مطابق طالبان حکومت کو مبینہ دہشت گرد گروپوں کی سرپرستی کے باعث سفارتی اور عسکری سطح پر مشکلات کا سامنا ہے۔

 

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بعض طالبان حکام نے افغانستان میں شدت پسند عناصر کی موجودگی بالواسطہ طور پر تسلیم کی ہے۔ 

 

خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور سرحدی بندشوں نے ملک پر معاشی دباؤ بڑھا دیا ہے، جس کے باعث ادویات اور خوراک کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔

 

رپورٹ میں خبردار کیا گیا کہ کسی بھی ہمسایہ ملک کے ساتھ براہِ راست عسکری تصادم افغانستان کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔

 

 تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان کے اقتدار میں رہنے تک افغانستان عالمی سفارتکاری میں چیلنجز کا سامنا کرے گا۔

 

 افغان میڈیا اور عوام بھی ملک میں شدت پسند گروہوں کی موجودگی پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔

 

علاقائی تجزیہ کاروں کے مطابق سرحد پار حملوں اور سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے خطے میں کشیدگی برقرار ہے، جس کے اثرات ہمسایہ ممالک اور پورے خطے پر پڑ سکتے ہیں۔

 

 طالبان حکومت نے اب تک ان الزامات پر کوئی باضابطہ ردعمل جاری نہیں کیا۔