کینسر کے خلیات سے لڑنے کے لیے اوریگون یونیورسٹی نے نیا آئرن نینو میٹیریل تیار کر لیا

news-banner

تازہ ترین - 02 مارچ 2026

Oregon State University کے محققین نے ایک نیا آئرن پر مبنی نینو میٹیریل تیار کیا ہے جو کینسر کے خلیات کو اندر سے تباہ کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ 

 

یہ مادہ ٹیومر کے خلیے میں داخل ہوتے ہی دو الگ الگ کیمیائی ردِعمل متحرک کرتا ہے، جس کے نتیجے میں کینسر کے خلیے شدید آکسیڈیٹو تناؤ کا شکار ہو جاتے ہیں، جبکہ اردگرد کے صحت مند ٹشوز محفوظ رہتے ہیں۔

 

یہ دریافت کیموڈائنامک تھراپی (CDT) کے ابھرتے ہوئے شعبے کو مضبوط بناتی ہے، جو ٹیومرز کے اندر موجود منفرد کیمیائی ماحول سے فائدہ اٹھاتی ہے۔ 

 

کینسر کے خلیات زیادہ تیزابی ہوتے ہیں اور ان میں ہائیڈروجن پر آکسائیڈ کی مقدار بھی زیادہ ہوتی ہے۔ 

 

روایتی CDT اس ماحول میں ہائیڈروکسل ریڈیکلز پیدا کرتی ہے، جو خلیات کے اہم اجزاء جیسے چکنائی، پروٹینز اور DNA سے الیکٹران چھین کر نقصان پہنچاتے ہیں۔

 

جدید CDT طریقے سنگلٹ آکسیجن پیدا کرنے میں بھی کامیاب ہوئے ہیں، جو ایک منفرد الیکٹران اسپن اسٹیٹ کی وجہ سے دیگر آکسیجن مالیکیولز سے مختلف ہوتی ہے۔ 

 

تاہم موجودہ CDT ایجنٹس یا تو ہائیڈروکسل ریڈیکلز پیدا کرتے ہیں یا سنگلٹ آکسیجن، مگر دونوں کو بیک وقت مؤثر انداز میں پیدا نہیں کر پاتے، جس سے علاج کی طاقت محدود رہتی ہے۔

 

ان خامیوں کو دور کرنے کے لیے ٹیم نے لوہے پر مبنی میٹل آرگینک فریم ورک (MOF) سے نیا CDT نینو ایجنٹ تیار کیا۔ 

 

اس کی ساخت ہائیڈروکسل ریڈیکلز اور سنگلٹ آکسیجن دونوں بیک وقت پیدا کر سکتی ہے، جس سے کینسر کے خلاف اس کی طاقت میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے۔ 

 

یہ MOF مختلف کینسر سیل لائنز میں زہریلا اثر دکھاتا ہے، جبکہ غیر سرطانی خلیات کو کم سے کم نقصان پہنچاتا ہے۔