انٹرٹینمنٹ - 03 مارچ 2026
اقوامِ متحدہ میں اجلاس: مقبوضہ جموں و کشمیر میں شہری آزادیوں پر گہری تشویش
دنیا - 03 مارچ 2026
انٹرنیشنل ایکشن فار پیس اینڈ سسٹینیبل ڈویلپمنٹ نے اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 61 ویں اجلاس کے موقع پر ایک اہم مذاکرہ منعقد کیا، جس میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں شہری آزادیوں کے بتدریج محدود ہوتے دائرے پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔
مذاکرے کی صدارت معروف انسانی حقوق کے کارکن اور IAPSD کے سربراہ سردار امجد یوسف نے کی، جبکہ دنیا بھر سے ماہرین قانون اور نمائندگان نے انسانی حقوق کی صورتحال کے قانونی، سیاسی اور تکنیکی پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔
مقررین نے بتایا کہ موجودہ قوانین جیسے کہ پبلک سیفٹی ایکٹ، آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ اور دیگر قوانین جو “غیر قانونی سرگرمیوں” سے متعلق ہیں، طویل المدتی حراست، اختلافِ رائے کو جرم قرار دینا اور سکیورٹی اداروں کو استثنا دینے کا سبب بن رہے ہیں، جس سے بنیادی حقوق متاثر ہو رہے ہیں۔
پینلسٹوں نے طویل انٹرنیٹ بندش، نجی رابطہ ذرائع پر پابندی اور سماجی ذرائع ابلاغ کی نگرانی کو شہری سرگرمیوں اور آزاد صحافت کی روک تھام کے منظم طریقے کے طور پر قرار دیا۔
اجلاس میں ذرائع ابلاغ پر دباؤ، صحافیوں کی گرفتاری اور انسانی حقوق کے کارکنان بشمول خرم پرویز کے خلاف کارروائیوں پر بھی تشویش ظاہر کی گئی۔
حیاتیاتی شناختی نظام، چہرہ شناس ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت پر مبنی نگرانی کو شہری آزادیوں کے لیے خطرہ قرار دیا گیا۔
شرکاء نے مطالبہ کیا کہ اقوامِ متحدہ کی کونسل برائے انسانی حقوق کو جموں و کشمیر تک فوری، آزاد اور مؤثر رسائی دی جائے، پُرامن اختلافِ رائے کی بنیاد پر حراست میں لیے گئے افراد کے معاملات کا جائزہ لیا جائے، اور ریاستیں اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے منشور کے تحت اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کی مکمل پاسداری کریں۔
یہ مذاکرہ اقوامِ متحدہ انسانی حقوق کونسل کے اجلاس کے موقع پر کشمیری عوام کے شہری حقوق کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے منعقد کیا گیا۔
دیکھیں

