تازہ ترین - 04 مارچ 2026
یو اے ای دو ارب ڈالر کا قرض واپس نہیں مانگ رہا، گورنر اسٹیٹ بینک
کاروبار - 04 مارچ 2026
اسٹیٹ بینک کے گورنر جمیل احمد نے کہا ہے کہ یو اے ای دو ارب ڈالر کا قرض واپس نہیں مانگ رہا۔
پہلے یہ قرض سالانہ بنیادوں پر رول اوور ہوتا تھا، اب ماہانہ بنیادوں پر رول اوور ہو رہا ہے۔
پہلے ڈیبیٹ سورسنگ چار ارب ڈالر تک پہنچ گئی تھی، لیکن اب کم ہو گئی ہے۔
اس وقت ملکی برآمدات دباؤ میں ہیں۔
یہ بات انہوں نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی خزانہ کو بریفنگ دیتے ہوئے کہی، جس میں کمیٹی کے اراکین، وزیر خزانہ، وزارت خزانہ کے حکام، اسٹیٹ بینک کے نمائندگان اور دیگر موجود تھے۔
گورنر جمیل احمد نے مزید کہا کہ اس سال مہنگائی کی شرح پانچ سے سات فیصد کے درمیان رہنے کی توقع ہے۔
2022ء میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ساڑھے سترہ ارب ڈالر تھا، جسے کم کرنے کے لیے اقدامات کیے گئے۔
2022ء میں خسارہ جی ڈی پی کے 4.7 فیصد کے برابر تھا، 2023ء میں یہ ایک فیصد تک کم ہوگیا۔
پچھلے سال دو ارب ڈالر کا کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس رہا، جو چودہ سال بعد پہلا سرپلس تھا۔
انہوں نے بتایا کہ ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر پہلے 2.8 ارب ڈالر تھے، جو صرف دو ہفتوں کی درآمد کے برابر تھے، لیکن اب حکمت عملی کے تحت یہ ذخائر 16 ارب ڈالر سے زائد ہو گئے ہیں۔
جمیل احمد نے کہا کہ ملک کا بیرونی قرض سات سال میں 55 ارب ڈالر سے بڑھ کر 103 ارب ڈالر ہوگیا تھا اور پچھلے سال سے یہی سطح برقرار ہے۔
ملک کا کل قرضہ 148 ارب ڈالر ہے، جس میں حکومت کا قرض تقریباً 103 ارب ڈالر ہے۔
اسٹیٹ بینک نے ہدف مقرر کیا ہے کہ جون 2026ء تک زرمبادلہ کے ذخائر 18 ارب ڈالر تک بڑھا دیے جائیں اور دسمبر 2026ء تک 20 ارب ڈالر تک پہنچائے جائیں۔
دیکھیں

