مصنوعی ذہانت سے الزائمر کی پیشگی تشخیص میں اہم پیشرفت

news-banner

تازہ ترین - 09 مارچ 2026

امریکا کی ریاست میساچوسٹس میں قائم ورسسٹر پولی ٹیکنک انسٹیٹیوٹ کے محققین نے 800 سے زائد دماغی اسکینز کے تجزیے کے بعد بتایا کہ مصنوعی ذہانت اب دماغ میں ساختی تبدیلیوں کو پہچان سکتی ہے جو الزائمر کے ابتدائی اشارے فراہم کرتی ہیں۔

 

نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ مصنوعی ذہانت نہ صرف ابتدائی خطرات کی نشاندہی کر سکتی ہے بلکہ ایسے مریضوں کی شناخت میں بھی مددگار ہے جن میں الزائمر موجود ہو مگر ابھی تک تشخیص نہ ہوئی ہو۔

 

ماہرین کا کہنا ہے کہ ابتدائی مرحلے میں بیماری کی تشخیص سے مریضوں اور ڈاکٹروں کو اہم وقت مل سکتا ہے تاکہ وہ مناسب تیاری کریں اور بیماری کی رفتار کو ممکنہ طور پر سست کر سکیں۔

 

انسٹیٹیوٹ کے اسسٹنٹ ریسرچ پروفیسر بینجامن نیفیو نے کہا کہ الزائمر کی ابتدائی تشخیص مشکل ہے کیونکہ اس کی علامات اکثر عام بڑھاپے کی علامات کے طور پر نظر انداز کر دی جاتی ہیں۔