وزیرِ اعظم شہباز شریف کا کشیدہ علاقائی صورتحال کے پیشِ نظر کفایت شعاری اقدامات کا اعلان

news-banner

پاکستان - 09 مارچ 2026

وزیرِ اعظم شہباز شریف نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں بڑھتی کشیدگی اور توانائی بحران کے باعث حکومت کو مشکل فیصلے کرنا پڑے ہیں۔

 

انہوں نے ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای اور ان کے اہلِ خانہ کی شہادت پر گہرے دکھ کا اظہار کیا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کی مذمت کی۔ 

 

وزیرِ اعظم نے Saudi Arabia، Kuwait، Qatar اور Bahrain پر حملوں کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ان ممالک کی سلامتی کو اپنی سلامتی سمجھتا ہے۔

 

وزیرِ اعظم کے مطابق عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت ساٹھ ڈالر سے بڑھ کر سو ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے اور پاکستان کی معیشت کا انحصار خلیجی ممالک سے آنے والے تیل اور گیس پر ہے، اسی لیے حکومت نے توانائی کے بحران سے نمٹنے کے لیے سخت فیصلے کیے ہیں۔

 

اعلان کردہ کفایت شعاری اقدامات

 

  • آئندہ دو ماہ کے لیے سرکاری محکموں کی گاڑیوں کو فراہم کیے جانے والے ایندھن میں پچاس فیصد کمی کی جائے گی، تاہم ایمبولینس اور عوامی بسیں اس سے مستثنیٰ ہوں گی۔
  •  
  • تمام سرکاری محکموں کی ساٹھ فیصد گاڑیاں دو ماہ کے لیے استعمال سے روک دی جائیں گی۔
  •  
  • کابینہ کے ارکان، وزرا، مشیر اور معاونین دو ماہ کی تنخواہ رضاکارانہ طور پر نہیں لیں گے جبکہ ارکانِ پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں پچیس فیصد کمی کی جائے گی۔
  •  
  • گریڈ بیس اور اس سے اوپر کے افسران کی تنخواہوں میں دو دن کی کٹوتی کر کے اسے عوامی فلاح کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
  •  
  • سرکاری اداروں کے تنخواہوں کے علاوہ اخراجات میں بیس فیصد کمی اور نئی اشیا کی خریداری پر پابندی عائد کی گئی ہے۔
  •  
  • سرکاری افسران، مشیران اور وفاقی و صوبائی وزرا کے بیرونِ ملک دوروں پر پابندی ہوگی جبکہ گورنروں پر بھی یہی پابندی لاگو ہوگی۔
  •  
  • سرکاری عشائیوں اور افطار تقاریب پر پابندی عائد کر دی گئی ہے اور سیمینار و کانفرنسیں ہوٹلوں کے بجائے سرکاری مقامات پر منعقد ہوں گی۔
  •  
  • توانائی کی بچت کے لیے ضروری خدمات کے علاوہ پچاس فیصد عملہ گھر سے کام کرے گا اور دفاتر ہفتے میں چار دن کھلے رہیں گے۔
  •  
  • بینکوں، صنعت اور زراعت کے شعبے اس فیصلے سے مستثنیٰ ہوں گے۔
  •  
  • رواں ہفتے کے آخر سے اسکولوں کو دو ہفتوں کی چھٹیاں دی جائیں گی جبکہ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں آن لائن تعلیم شروع کی جائے گی۔