14 اپریل کے بعد ملک میں ایل این جی دستیاب نہیں ہو گی: حکام

news-banner

کاروبار - 16 مارچ 2026

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی پیٹرولیم کے اجلاس میں، جس کی صدارت سینیٹر منظور احمد نے کی، بتایا گیا کہ 14 اپریل کے بعد پاکستان میں ایل این جی دستیاب نہیں ہوگی۔

 

حکام کے مطابق، اس سال کے لیے ماہانہ دو کارگو موخر کر دیے گئے تھے اور قطر سے 2 مارچ سے ایل این جی کی سپلائی مکمل طور پر بند ہو گئی ہے۔ 

 

مارچ میں آٹھ کارگو میں سے صرف دو پہنچے، جبکہ اپریل میں چھ کارگو آنے تھے۔ 

 

مزید یہ کہ سُوئی سدرن نے ایک فرٹیلائزر پلانٹ کو 50 فیصد گیس کی کٹوتی کی ہے۔

 

پاور سیکٹر کی سپلائی 300 ایم ایم سی ایف ڈی سے کم ہو کر 130 ایم ایم سی ایف ڈی رہ گئی ہے۔ 

 

گھریلو صارفین کو گیس فراہم کی جائے گی، مگر اپریل میں پاور سیکٹر کی ضرورت پوری نہیں ہو سکے گی۔

 

حکام نے کہا کہ پاور سیکٹر کی ضروریات متبادل ذرائع سے پوری کی جا سکتی ہیں، بشمول آذربائیجان سے ایل این جی خریدنا، تاہم اسپاٹ خریداری کی قیمت 24 ڈالر فی یونٹ ہو سکتی ہے، جبکہ قطر سے گیس 9 ڈالر فی یونٹ ملتی تھی، جس سے بجلی کی قیمت بڑھ جائے گی۔

 

۔ وزیر توانائی نے کہا کہ عالمی سطح پر ایل این جی کی سپلائی میں رکاوٹ سے پاکستان زیادہ متاثر نہیں ہوگا۔