تازہ ترین - 16 مارچ 2026
شدید کورونا اور فلو کے بعد پھیپھڑوں کے کینسر کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، نئی تحقیق
تازہ ترین - 16 مارچ 2026
امریکہ میں کی گئی ایک نئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ شدید کورونا وائرس یا انفلوئنزا (فلو) کے مریضوں میں مستقبل میں پھیپھڑوں کے کینسر کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
یہ تحقیق یونیورسٹی آف ورجینیا ہیلتھ سسٹم کے سائنسدانوں نے کی ہے اور اسے معروف سائنسی جریدے ’سیل‘ میں شائع کیا گیا ہے۔
تحقیق کے مطابق شدید وائرس پھیپھڑوں میں دیرپا تبدیلیاں پیدا کرتے ہیں جو بعد میں کینسر کے خلیات کی افزائش کے لیے سازگار ماحول بناتی ہیں۔
سائنسدانوں نے بتایا کہ شدید انفیکشن کے بعد مدافعتی خلیات کی کارکردگی کمزور ہو جاتی ہے جس سے پھیپھڑوں میں مسلسل سوزش رہتی ہے اور یہ رسولیوں کی نشوونما کو تیز کر سکتی ہے۔
ڈاکٹر جئے سُن کے مطابق شدید کورونا یا فلو کے بعد پھیپھڑوں میں طویل عرصے تک سوزش رہ سکتی ہے، جس سے کینسر کے خلیات کے بڑھنے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔
عالمی ادارۂ صحت کے مطابق پھیپھڑوں کا کینسر دنیا بھر میں کینسر سے ہونے والی اموات کی سب سے بڑی وجہ ہے اور زیادہ تر مریضوں میں اس کی تشخیص دیر سے ہوتی ہے۔
تجربات سے معلوم ہوا کہ شدید پھیپھڑوں کے انفیکشن سے صحت یاب چوہوں میں کینسر کی شرح نمایاں طور پر زیادہ تھی۔
ڈیٹا کے مطابق کورونا کے باعث اسپتال میں داخل ہونے والے مریضوں میں پھیپھڑوں کے کینسر کا خطرہ تقریباً 1.24 گنا زیادہ تھا، چاہے وہ تمباکو نوشی کرتے ہوں یا نہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ شدید انفیکشن کے بعد نیوٹروفلز اور میکروفیجز نامی مدافعتی خلیات غیر معمولی طور پر کام کرتے ہیں، جس سے پھیپھڑوں میں ایک ایسا ماحول بنتا ہے جو رسولیوں کی نشوونما میں مدد دیتا ہے۔
تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ویکسینیشن اس خطرے کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے، کیونکہ یہ وائرس کی شدت کو کم کر دیتی ہے اور پھیپھڑوں میں خطرناک تبدیلیوں کے امکانات کو گھٹا دیتی ہے۔
ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ شدید کورونا، فلو یا نمونیا سے صحت یاب ہونے والے افراد باقاعدہ طبی نگرانی کریں تاکہ پھیپھڑوں کے کینسر کی ابتدائی علامات بروقت پہچانی جا سکیں اور علاج ممکن ہو۔
دیکھیں

