چین کی چِپ بنانے والی کمپنی ہوا ہونگ سات نینو میٹر چپس کی تیاری کے قریب

news-banner

تازہ ترین - 16 مارچ 2026

چین کی دوسری بڑی چِپ بنانے والی کمپنی ہوا ہونگ گروپ سات نینو میٹر کی جدید چپس کی تیاری کے لیے تیاری کر رہی ہے، جسے ٹیکنالوجی میں خود کفالت کے لیے چین کی اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

 

خبر رساں ادارے کے مطابق کمپنی کا معاہداتی چپ سازی کا ادارہ ہوالی مائیکرو الیکٹرانکس شنگھائی میں قائم اپنے کارخانے میں سات نینو میٹر چپس بنانے کے عمل پر کام کر رہا ہے۔ 

 

کامیابی کی صورت میں یہ چین کی دوسری کمپنی بن جائے گی جو اس سطح کی چپس تیار کر سکے گی، جبکہ اس وقت یہ صلاحیت صرف ایس ایم آئی سی نامی چینی کمپنی کے پاس ہے۔

 

ذرائع کے مطابق چینی ٹیکنالوجی کمپنی ہواوے بھی اس منصوبے میں تعاون کر رہی ہے۔ 

 

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب چین غیر ملکی سپلائرز پر انحصار کم کرنے کے لیے مقامی ٹیکنالوجی کو فروغ دے رہا ہے۔

 

امریکا کی جانب سے بعض برآمدی پابندیوں میں نرمی کے بعد امریکی کمپنی انوڈیا کو مصنوعی ذہانت سے متعلق کچھ چپس چین کو فروخت کرنے کی اجازت دی گئی، تاہم چین اب بھی مقامی طور پر تیار کردہ ٹیکنالوجی کے استعمال کی حوصلہ افزائی کر رہا ہے۔

 

اطلاعات کے مطابق نئی چپس کی آزمائشی تیاری گزشتہ سال شروع کی گئی تھی اور مقامی آلات بنانے والی کمپنی سائی کیریئر نے بھی اس میں تعاون کیا۔ 

 

منصوبے کے تحت سال کے اختتام تک ہر ماہ چند ہزار ویفر تیار کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔

 

چینی گرافکس پراسیسر تیار کرنے والی کمپنی بیرن ٹیکنالوجی بھی اس نئی پیداواری لائن پر اپنی چپس کے ابتدائی نمونوں کی آزمائش کر رہی ہے، کیونکہ اسے سن 2023 میں امریکی تجارتی پابندیوں کے بعد تائیوان کی بڑی چِپ ساز کمپنی ٹی ایس ایم سی کی خدمات تک رسائی حاصل نہیں رہی۔