انٹرٹینمنٹ - 17 مارچ 2026
گلوٹاتھائیون سپلیمنٹ: صحت کیلئے مفید یا محض دعویٰ؟ ماہرین نے خبردار کر دیا
تازہ ترین - 17 مارچ 2026
گلوٹاتھائیون ایک قدرتی مادہ ہے جو جسم میں تین امینو ایسڈز یعنی گلائسین، سسٹین اور گلوٹامک ایسڈ سے بنتا ہے۔
یہ جگر میں تیار ہوتا ہے اور ٹشوز کی مرمت، کیمیائی مادوں اور پروٹین کی تیاری کے ساتھ ساتھ مدافعتی نظام کو بہتر بنانے میں کردار ادا کرتا ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق گلوٹاتھائیون کو عام طور پر بڑھتی عمر کے اثرات کم کرنے، جلد کو روشن بنانے اور جگر و دل کی صحت کیلئے استعمال کیا جاتا ہے، تاہم ان مقاصد کیلئے اس کی افادیت کے واضح اور مضبوط سائنسی شواہد موجود نہیں ہیں۔
ممکنہ فائدہ کہاں ثابت ہوا؟
ماہرین کے مطابق گلوٹاتھائیون کچھ مخصوص طبی حالات میں فائدہ مند ہو سکتا ہے۔ خاص طور پر کینسر کے علاج میں استعمال ہونے والی دوا سس پلاٹن سے ہونے والے اعصابی نقصان کو کم کرنے کیلئے اگر اسے انجیکشن (آئی وی) کے ذریعے دیا جائے تو بعض مریضوں میں بہتری دیکھی گئی ہے، لیکن یہ طریقہ صرف طبی نگرانی میں ہی ممکن ہے۔
مضر اثرات اور احتیاط
گلوٹاتھائیون کو سپلیمنٹ کی صورت میں روزانہ 500 ملی گرام تک محدود مدت (تقریباً 2 ماہ) کیلئے ممکنہ طور پر محفوظ سمجھا جاتا ہے، مگر اس کے ضمنی اثرات کے حوالے سے معلومات محدود ہیں۔
سانس کے ذریعے استعمال بھی ممکنہ طور پر محفوظ ہو سکتا ہے، لیکن اس پر مکمل تحقیق دستیاب نہیں۔
براہ راست جلد پر لگانے سے کچھ افراد میں خارش یا الرجی ہو سکتی ہے۔
کن افراد کو احتیاط کرنی چاہیے؟
حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین کو اس کے استعمال سے گریز کرنا چاہیے کیونکہ اس حوالے سے محفوظ ہونے کے شواہد ناکافی ہیں۔
دمے کے مریضوں کو اسے سانس کے ذریعے استعمال نہیں کرنا چاہیے کیونکہ اس سے علامات بڑھ سکتی ہیں۔
گلوٹاتھائیون شاٹس کے استعمال سے بعض صورتوں میں بلڈ پریشر اچانک کم ہو سکتا ہے، اس لیے احتیاط ضروری ہے۔
خوراک اور مقدار
ماہرین کے مطابق گلوٹاتھائیون کی مناسب مقدار کے بارے میں واضح سائنسی رہنمائی موجود نہیں۔
چونکہ قدرتی سپلیمنٹس ہمیشہ مکمل طور پر محفوظ نہیں ہوتے، اس لیے استعمال سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ کرنا ضروری ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑے دعوؤں کے باوجود گلوٹاتھائیون کے فوائد کے حق میں مضبوط سائنسی شواہد محدود ہیں، اس لیے بغیر طبی مشورے کے اس کا استعمال احتیاط کے ساتھ کیا جانا چاہیے۔
دیکھیں

