دنیا - 21 مارچ 2026
ایران میں امریکی اسرائیلی جارحیت کے سائے میں عید، میزائل حملے اور فضائی کارروائیاں جاری
دنیا - 21 مارچ 2026
ایران میں آج امریکی اور اسرائیلی جارحیت کے سائے میں عید منائی جا رہی ہے، جبکہ برطانیہ نے امریکا کو فوجی اڈے دینے پر رضامندی ظاہر کی۔
ایران نے اس مشترکہ اڈے پر بیلسٹک میزائل داغے اور تل ابیب میں دھماکے بھی ہوئے۔
امریکا نے ایرانی خام تیل کی برآمد کی عارضی اجازت دے دی اور ایران بھیجنے والے ہزاروں فوجیوں کی منصوبہ بندی کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
طبی حکام کے مطابق امریکی اور اسرائیلی بمباری سے ایران اور لبنان میں شہادتوں کی تعداد 2,500 سے تجاوز کر چکی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے متضاد بیانات دیے، ایک بیان میں کہا کہ مشرق وسطیٰ میں فوجی کارروائیوں کے خاتمے پر غور کیا جا رہا ہے۔
ایران کے رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای نے تحریری پیغام جاری کیا، جس میں کہا کہ ایرانی عوام کے اتحاد نے دشمن کی صفوں میں دراڑ ڈال دی ہے۔
دشمنوں نے ایران کی طاقت کا غلط اندازہ لگایا، اور توقع کی کہ چند دنوں میں حکومت کا تختہ الٹ دیا جائے گا، مگر یہ غلط ثابت ہوا۔ خامنہ ای نے پاکستان کی اہمیت کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ دیگر خطائی ممالک بیرونی مداخلت کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہیں۔
امریکی میڈیا کے مطابق ایران نے امریکا اور برطانیہ کے مشترکہ فوجی اڈے ڈیاگو گارشیا پر درمیانی فاصلے تک مار کرنے والے دو بیلسٹک میزائل داغے، تاہم یہ اڈہ میزائل سے متاثر نہ ہوا۔
ایران پر فضائی حملے بھی جاری ہیں، تہران، کرج اور اصفہان سمیت کئی شہروں میں امریکی اور اسرائیلی ڈرونز اور نیوی جہازوں نے ہدف بنایا۔ اسرائیل نے بیروت میں حزب اللہ کے مراکز پر بھی حملے کیے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ جاپانی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گذرنے کی اجازت دینے کے لیے مذاکرات جاری ہیں تاکہ عارضی نرمی ممکن ہو سکے۔
برطانوی ذرائع کے مطابق جنگ کے دوران 40 سے زائد ایرانی ڈرونز کو تباہ کیا گیا۔ امریکی محکمہ خزانہ نے ایرانی خام تیل کی عارضی برآمد کی اجازت دی، لیکن ایران نے کہا کہ عالمی مارکیٹ میں فروخت کے لیے کوئی تیل دستیاب نہیں، یہ اقدام صرف نفسیاتی حربے کے لیے ہے۔
عراق میں امریکی اڈے پر حملے کے بعد آگ بھڑک اٹھی اور ایئر بیس کا ریڈار سسٹم ناکارہ ہو گیا۔
ایران نے اسرائیل پر میزائل حملوں کی 67 ویں لہر بھی شروع کی، جس میں حیفہ اور تل ابیب کے 25 مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔
پاسداران انقلاب نے خبردار کیا کہ اگر ایرانی جزیروں پر حملے دوبارہ ہوئے تو یو اے ای کے راس الخیمہ کو بھی نشانہ بنایا جائے گا۔
یورپی ملک سوئٹزرلینڈ نے اعلان کیا کہ امریکا کو ایران سے متعلق جنگ میں شامل ممالک کو اسلحہ برآمد کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
دیکھیں

