ایران کے اسرائیل پر میزائل حملے جاری، بڑے پیمانے پر تباہی اور ہلاکتیں

news-banner

دنیا - 23 مارچ 2026

ایران نے اسرائیل پر میزائل حملے شروع کر دیے ہیں، جس سے متعدد علاقوں میں شدید تباہی ہوئی ہے۔

 

 اطلاعات کے مطابق اسرائیلی اور امریکی دفاعی نظام ایرانی میزائلوں کو روکنے میں ناکام رہے ہیں۔

 

تازہ حملوں کے بعد جنوبی اور وسطی اسرائیل کے کئی علاقوں میں میزائل گرنے کی خبریں موصول ہو رہی ہیں۔

 

 رپورٹس کے مطابق دھماکوں اور ملبہ گرنے سے نقصان ہوا جبکہ کلسٹر بموں کے استعمال سے بھی تباہی ہوئی۔

 

اب تک 10 اسرائیلی ہلاک اور تقریباً 180 زخمی ہو چکے ہیں۔

 

 تل ابیب، ایلات، بیر السبع، ڈیمونا اور عراد میں شدید نقصان ہوا، کئی عمارتیں منہدم ہو گئیں اور مقامی آبادی میں خوف و ہراس پیدا ہو گیا۔

 

ایرانی حملوں میں اسرائیل کا جوہری مرکز ڈیمونا بھی نشانے پر رہا، تاہم عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کے مطابق وہاں تابکاری کے شواہد نہیں ملے۔

 

امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ کارروائی میں ایران کے جنوبی شہر بندر عباس میں واقع پرشین گلف سینٹرل براڈکاسٹنگ کمپنی کے 100 کلو واٹ اے ایم ٹرانسمیٹر کو نشانہ بنایا گیا۔

 

 کمپنی کے ڈائریکٹر جنرل کے مطابق ایک شخص ہلاک اور ایک زخمی ہوا، تاہم نشریات معمول کے مطابق جاری ہیں۔

 

اسرائیلی ایمرجنسی سروس کے مطابق گزشتہ روز زخمی ہونے والا ایک اور شخص دم توڑ گیا۔ گزشتہ 24 گھنٹوں میں 164 افراد کو طبی امداد فراہم کی گئی، جن میں 150 کے جسم پر زخم تھے اور 14 میں اضطراب کی علامات پائی گئیں۔ 

 

12 افراد کی حالت تشویشناک، 20 کی حالت معتدل، اور 88 کو معمولی زخم آئے۔ اب تک 1,576 افراد کو طبی امداد دی جا چکی ہے۔

 

اسرائیلی فوج نے ایران میں ہتھیاروں کی تیاری اور ذخیرہ کرنے والے مقامات اور فوجی اڈے کو بھی نشانہ بنایا ہے۔

 

 رات گئے کی گئی کارروائی میں ایرانی سکیورٹی اداروں کے زیر انتظام مقامات کو ہدف بنایا گیا۔

 

تہران سے موصول رپورٹس کے مطابق دارالحکومت میں نئے حملوں کے بعد فضائی دفاعی نظام فعال کر دیا گیا ہے۔

 

عراق میں مسلح گروہ اصحاب الکہف نے اربیل میں موساد کے دفتر کو ڈرون حملے میں نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا، تاہم تصدیق شدہ نقصان یا جانی نقصان کی تفصیلات دستیاب نہیں ہیں۔

 

 گروہ نے شہریوں کو عراق بھر میں امریکی فوجی اڈوں سے دور رہنے کی ہدایت دی۔

 

اسی دوران، اسرائیلی افواج نے جنوبی لبنان کے قصبے ناقورہ پر توپ خانے سے شدید گولہ باری کی، مبینہ طور پر سفید فاسفورس گولے بھی استعمال کیے گئے۔

 

 اسرائیلی فوج اور حزب اللہ کے درمیان زمینی جھڑپیں بھی شروع ہو گئی ہیں، جس سے سرحدی علاقے میں کشیدگی میں اضافہ اور مقامی آبادی میں خوف و ہراس پھیلا ہے۔