مصنوعی ذہانت کے زیادہ استعمال کے نقصانات، ماہرین کی سخت وارننگ

news-banner

تازہ ترین - 27 مارچ 2026

عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت تیزی سے ترقی کر رہی ہے اور زندگی کے ہر شعبے پر اثر انداز ہو رہی ہے، تاہم ماہرین نے اس کے زیادہ استعمال پر سخت وارننگ جاری کی ہے۔

 

اگرچہ یہ ٹیکنالوجی ای میل لکھنے، پیغامات تیار کرنے اور کتابوں کے خلاصے بنانے جیسے کام چند لمحوں میں آسان بنا دیتی ہے، لیکن ماہرین کے مطابق اس پر حد سے زیادہ انحصار انسانی ذہنی صلاحیتوں کو متاثر کر سکتا ہے۔

 

ماہرین کا کہنا ہے کہ جب انسان خود سوچنے، تحقیق کرنے اور مسائل حل کرنے کے بجائے اے آئی پر انحصار کرتا ہے تو اس کے دماغ کی فعالیت کم ہو جاتی ہے، جس سے سیکھنے اور سمجھنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔

 

تحقیقی رپورٹس کے مطابق زیادہ استعمال کرنے والے افراد معلومات کو گہرائی سے سمجھنے کے بجائے سرسری نظر سے دیکھنے کے عادی ہو جاتے ہیں، جس سے ذہنی شارٹ کٹس، سستی اور مکمل انحصار کا رجحان بڑھتا ہے۔

 

ماہرین کے مطابق اصل مسئلہ اے آئی کا استعمال نہیں بلکہ اس کا غلط استعمال ہے۔ 

 

جس طرح انسان ڈاکٹر یا استاد سے رہنمائی لیتا ہے، اسی طرح اے آئی کو بھی صرف معاون کے طور پر استعمال کرنا چاہیے۔

 

انہوں نے مزید کہا کہ انسانی دماغ کے بنیادی کام معلومات کو سمجھنا، محفوظ کرنا اور ضرورت کے وقت یاد کرنا ہیں، اور اگر یہ عمل کم ہو جائے تو ذہنی کارکردگی متاثر ہو سکتی ہے۔

 

ماہرین نے تجویز دی کہ مشکل کام خود کرنے کی عادت اپنائی جائے اور اے آئی کو صرف مددگار کے طور پر استعمال کیا جائے تاکہ ذہنی صلاحیت برقرار رہے اور یہ ٹیکنالوجی فائدہ مند ثابت ہو۔