امریکی خلا باز خلائی مشن کے دوران عارضی طور پر بولنے کی صلاحیت سے محروم، ماہرین حیران

news-banner

تازہ ترین - 28 مارچ 2026

امریکی خلائی ادارے ناسا کو ایک غیر معمولی طبی معمہ درپیش ہے جب تجربہ کار خلا باز نے خلائی مشن کے دوران عارضی طور پر بولنے کی صلاحیت کھو دی، جس کی وجہ ماہرین اب تک معلوم نہیں کرسکے۔

 

میڈیا رپورٹس کے مطابق چار مرتبہ خلا کا سفر کرنے والے مائیک فنکے کو 7 جنوری کو بین الاقوامی خلائی سٹیشن پر اچانک یہ طبی مسئلہ پیش آیا۔ 

 

وہ رات کے کھانے کے بعد اگلے دن کی سپیس واک کی تیاری کر رہے تھے کہ اچانک بغیر کسی درد یا واضح علامت کے بولنے سے قاصر ہوگئے۔

 

فنکے کے مطابق یہ کیفیت اچانک بجلی کی چمک کی طرح نمودار ہوئی اور تقریباً 20 منٹ تک برقرار رہی، جس کے بعد وہ مکمل طور پر معمول پر آگئے۔ 

 

انہوں نے بتایا کہ اس سے پہلے یا بعد میں کبھی ایسا تجربہ نہیں ہوا۔

 

ساتھی خلا باز فوراً صورتحال سمجھ گئے اور چند لمحوں میں ہنگامی طبی اقدامات شروع کیے۔ 

 

طبی ماہرین نے بتایا کہ یہ واقعہ دل کے دورے یا سانس رکنے کی وجہ سے نہیں لگتا کیونکہ اس وقت خلا باز کو کسی قسم کی تکلیف یا سانس میں مسئلہ نہیں تھا۔

 

ماہرین اس پراسرار کیفیت کو طویل عرصے تک بے وزنی کی حالت سے جوڑ کر دیکھ رہے ہیں، کیونکہ فنکے اس مشن کے دوران تقریباً ساڑھے 5 ماہ خلائی سٹیشن پر موجود تھے اور مجموعی طور پر 549 دن خلا میں گزار چکے ہیں۔

 

اس طبی ہنگامی صورتحال کے باعث طے شدہ سپیس واک منسوخ کر دی گئی، جو فنکے کی دسویں سپیس واک ہوتی جبکہ ان کے ساتھی خلا باز کے لیے یہ پہلا تجربہ ہونا تھا۔