دنیا - 29 مارچ 2026
امریکا کی ایران کے خلاف زمینی کارروائی اور آبنائے ہرمز و خارگ جزیرے پر ممکنہ منصوبہ بندی کی رپورٹس
دنیا - 29 مارچ 2026
امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق پینٹاگون ایران میں زمینی کارروائیوں کی تیاری کر رہا ہے، جس کی امریکی حکام نے بھی تصدیق کی ہے۔
یہ کارروائیاں کئی ہفتوں پر محیط ہو سکتی ہیں اور ان میں اسپیشل فورسز اور روایتی فوج کے مشترکہ آپریشن شامل ہو سکتے ہیں، تاہم یہ مکمل جنگ کے بجائے محدود نوعیت کے چھاپے ہوں گے۔
رپورٹ کے مطابق ان کارروائیوں کا ہدف ایرانی ساحلی علاقے اور اہم عسکری تنصیبات ہو سکتی ہیں، خاص طور پر آبنائے ہرمز کے قریب علاقے جہاں سے تجارتی اور فوجی جہاز گزرتے ہیں۔
یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایسی کارروائیوں کے دوران امریکی فوج کو ڈرون حملوں، میزائلوں، زمینی فائرنگ اور دیسی ساختہ دھماکہ خیز مواد جیسے خطرات کا سامنا ہو سکتا ہے۔ تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ان منصوبوں کی منظوری دیں گے یا نہیں۔
وائٹ ہاؤس کے ترجمان کے مطابق پینٹاگون کا کام مختلف آپشنز تیار کرنا ہوتا ہے تاکہ صدر کو فیصلہ کرنے میں سہولت ہو، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ کوئی حتمی فیصلہ ہو چکا ہے۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ امریکی حکام خارگ جزیرے جیسے اہم تیل برآمدی مرکز اور آبنائے ہرمز کے قریب دیگر ساحلی علاقوں میں بھی کارروائیوں پر غور کر رہے ہیں، اور یہ مشن چند ہفتوں یا مہینوں میں مکمل ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ فی الحال ایران میں زمینی فوج تعینات نہیں کر رہے جبکہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے مطابق اہداف زمینی فوج کے بغیر بھی حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
امریکا میں عوامی سطح پر بھی اس اقدام کی مخالفت سامنے آئی ہے، سروے کے مطابق اکثریت ایران میں فوج بھیجنے کے خلاف ہے جبکہ ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے بھی ہوئے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق اگر امریکی افواج ایرانی سرزمین میں داخل ہوئیں تو انہیں سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، خاص طور پر پاسداران انقلاب کی جانب سے۔
اس معاملے پر کانگریس میں بھی اختلاف پایا جاتا ہے اور یہ صورتحال امریکا کی داخلی سیاست اور خطے کی صورتحال دونوں پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔
دیکھیں

