تازہ ترین - 30 مارچ 2026
عالمی تیل مارکیٹ میں شدید بحران، قیمتیں 200 ڈالر فی بیرل تک پہنچنے کا خدشہ
کاروبار - 30 مارچ 2026
آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث عالمی تیل مارکیٹ میں شدید بحران پیدا ہو گیا ہے اور قیمتوں کے 200 ڈالر فی بیرل تک پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
دنیا کو تاریخ کے بڑے تیل سپلائی بحران کا سامنا ہے جو ایک ماہ سے زائد عرصے تک جاری رہ چکا ہے۔
اس صورتحال کے باعث عالمی سطح پر قیمتوں میں اضافہ، معاشی ترقی کی رفتار میں کمی، اور ایشیائی ممالک جیسے پاکستان اور تھائی لینڈ میں ایندھن کی قلت کے آثار سامنے آ رہے ہیں۔
بلوم برگ کے مطابق دنیا ابھی تک اس بحران کی شدت کو مکمل طور پر نہیں سمجھ سکی۔
امریکی حکام اور مالیاتی ماہرین اب اس امکان پر غور کر رہے ہیں کہ تیل کی قیمتیں غیر معمولی حد تک بڑھ سکتی ہیں، جو عالمی معیشت کے لیے بڑا خطرہ ہے۔
ماہرین نے اس صورتحال کو 1970 کی دہائی کے تیل بحران سے تشبیہ دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز کی بندش برقرار رہی تو ایک بڑا عالمی بحران جنم لے سکتا ہے۔
ایشیا میں ایندھن کی قلت مغربی ممالک تک پھیل سکتی ہے اور یورپ کو آنے والے ہفتوں میں ڈیزل کی کمی کا سامنا ہو سکتا ہے۔
اس بندش کے باعث عالمی تیل کی سپلائی میں تقریباً 11.1 ملین بیرل یومیہ کمی واقع ہوئی ہے، جبکہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل راستوں کے ذریعے اس کمی کو پورا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
بین الاقوامی توانائی ادارے نے ہنگامی ذخائر جاری کیے ہیں اور دیگر اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں، تاہم ان کے اثرات محدود دکھائی دیتے ہیں۔
پاتریک پویان نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ بحران تین سے چار ماہ سے زیادہ جاری رہا تو یہ دنیا کے لیے سنگین مسئلہ بن سکتا ہے، کیونکہ عالمی تیل اور گیس کی پیداوار کا بڑا حصہ متاثر ہو رہا ہے۔
اس وقت تیل کی قیمت تقریباً 112 ڈالر فی بیرل ہے جو بحران کے آغاز کے بعد نمایاں اضافہ ظاہر کرتی ہے، جبکہ یورپ میں گیس کی قیمتوں میں بھی تیزی سے اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
ایشیا میں طلب میں کمی کے باوجود پٹرول، ڈیزل اور جیٹ ایندھن کی قلت بڑھ رہی ہے، اور یورپ میں بھی آنے والے دنوں میں ڈیزل کی کمی کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
دیکھیں

