صوبوں کی مخالفت پر حکومت نے اسمارٹ لاک ڈاؤن نافذ نہ کرنے کا فیصلہ

news-banner

پاکستان - 30 مارچ 2026

صدر مملکت آصف علی زرداری کی زیر صدارت اہم مشاورتی اجلاس میں ملک میں اسمارٹ لاک ڈاؤن نافذ نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا، کیونکہ چاروں صوبوں نے اس کی مخالفت کی۔

 

اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف، وفاقی وزرا، صوبوں کے وزرائے اعلیٰ، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کی قیادت سمیت دیگر اہم حکام نے شرکت کی۔ 

 

قومی سلامتی کی موجودہ صورتحال، خطے میں بدلتی ہوئی صورت حال اور اس کے پاکستان پر ممکنہ اثرات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

 

اجلاس میں ملک کو درپیش معاشی، توانائی اور سکیورٹی چیلنجز پر مشاورت کی گئی اور ان سے نمٹنے کے لیے جامع حکمت عملی اپنانے پر اتفاق کیا گیا۔ 

 

بریفنگ میں بتایا گیا کہ ملک کے لیے ایندھن، ادویات اور دیگر ضروری اشیاء کے وافر ذخائر موجود ہیں اور بروقت اقدامات کی بدولت ان کی فراہمی میں کوئی تعطل نہیں آیا۔

 

صدر نے واضح کیا کہ مشکل وقت میں معاشی طور پر کمزور طبقات کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا اور عوام پر مہنگائی کے اثرات کم کرنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جائیں گے۔ 

 

انہوں نے توانائی کی بچت، پبلک ٹرانسپورٹ کے فروغ اور مشترکہ سفری سہولیات کو اپنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

 

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صوبوں کی مخالفت کی وجہ سے اسمارٹ لاک ڈاؤن نافذ نہیں کیا گیا اور پاکستان کو امن کے قیام میں مثبت کردار ادا کرنا چاہیے۔