دنیا - 01 اپریل 2026
میکسیکو میں تیل کے اخراج پر تنازع شدت اختیار کر گیا، حکومت پر حقائق چھپانے کا الزام
دنیا - 01 اپریل 2026
خلیجِ میکسیکو کے قریب ہونے والے بڑے تیل کے اخراج پر تنازع شدت اختیار کر گیا ہے، جہاں ماحولیاتی تنظیموں نے حکومت پر اس کے اصل ماخذ کے حوالے سے عوام کو گمراہ کرنے کا الزام عائد کیا ہے، تاہم حکام نے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔
بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق ویراکروز کے ساحل کے قریب یہ اخراج 373 میل سے زائد علاقے تک پھیل چکا ہے جس سے کم از کم 7 محفوظ قدرتی علاقوں کو نقصان پہنچا ہے جبکہ کچھوؤں اور مچھلیوں سمیت سمندری حیات متاثر ہوئی ہے۔
مقامی ماہی گیر بھی اس صورتحال سے شدید متاثر ہوئے ہیں اور بعض اپنی روزی روٹی کمانے سے قاصر ہو گئے ہیں۔
حکام کے مطابق تقریباً 800 ٹن ہائیڈروکاربن فضلہ سمندر میں شامل ہوا جس کی وجہ ایک جہاز اور قدرتی تیل کا اخراج بتایا گیا ہے۔
تاہم ماحولیاتی تنظیموں، جن میں گرین پیس میکسیکو اور میکسیکن سینٹر فار انوائرنمنٹل رائٹس شامل ہیں، نے اس مؤقف کو مسترد کر دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ سیٹلائٹ تصاویر کے مطابق یہ اخراج سرکاری تیل کمپنی پیمیکس سے منسلک پائپ لائن سے ہوا اور ممکنہ طور پر اس کا آغاز حکام کی بتائی گئی تاریخ سے پہلے ہوا۔
میکسیکن سینٹر فار انوائرنمنٹل رائٹس کی ترجمان کے مطابق معلومات کی کمی کے باعث بڑے پیمانے پر ماحولیاتی اور معاشی نقصان ہو رہا ہے جبکہ تاحال کسی کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا گیا۔
دوسری جانب پیمیکس نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے سیٹلائٹ شواہد کو غلط قرار دیا اور کہا کہ متعلقہ جہاز معمول کے معائنے اور ہنگامی کارروائیوں میں مصروف تھا۔
میکسیکو کی صدر کلاڈیا شینباؤم نے بھی ان دعوؤں کو رد کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی تیل کے ڈھانچے میں کسی قسم کے رساؤ کی اطلاع نہیں ملی اور امکان ظاہر کیا کہ یہ اخراج قدرتی وجوہات کے باعث ہو سکتا ہے۔
دیکھیں

