تازہ ترین - 08 اپریل 2026
پاکستان میں نوزائیدہ بچوں میں ایم پاکس کے کیسز، ماہرین کی وارننگ
تازہ ترین - 08 اپریل 2026
پاکستان میں پہلی بار نوزائیدہ بچوں میں بھی منکی پاکس کے کیسز سامنے آئے ہیں، ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اسپتالوں میں ناقص صفائی اور آئسولیشن کے انتظامات اس پھیلاؤ کی بڑی وجہ ہیں۔
اب یہ بیماری صرف بیرونِ ملک سے آنے والے افراد تک محدود نہیں رہی بلکہ ملک کے اندر بھی پھیلنے کا خطرہ موجود ہے۔
ڈاکٹر فاطمہ میر نے بتایا کہ سندھ کے خیرپور سے بچوں میں بخار، کمزوری اور پانی سے بھرے دانے جیسی علامات دیکھی گئی ہیں، اور بعض اموات بھی رپورٹ ہوئی ہیں۔
نوزائیدہ بچوں میں انفیکشن کے پھیلاؤ کی بڑی وجہ اسپتالوں میں کراس انفیکشن ہے، جہاں صفائی اور آئسولیشن مؤثر طریقے سے نہیں کی جاتی۔
علامات ظاہر ہونے پر فوری الگ تھلگ کرنا اور متعلقہ حکام کو اطلاع دینا ضروری ہے، خاص طور پر گھر میں کمزور مدافعت یا دائمی بیماری والے افراد کے لیے۔
ڈاکٹر فیصل محمود نے کہا کہ 2025 میں پاکستان میں 53 تصدیق شدہ کیسز زیادہ تر بیرونِ ملک سفر سے متعلق تھے، لیکن 2026 میں مقامی پھیلاؤ بھی سامنے آ رہا ہے۔
انہوں نے اسپتالوں میں ناقص انفیکشن کنٹرول پر تشویش ظاہر کی اور کہا کہ دانے ایک ہی عمر میں ظاہر ہوتے ہیں اور زیادہ تکلیف دہ ہوتے ہیں۔
بیماری قریبی جسمانی رابطے، آلودہ کپڑوں یا بستروں کے ذریعے پھیلتی ہے، اور نوزائیدہ بچوں، حاملہ خواتین اور کمزور مدافعت والے افراد میں زیادہ شدت اختیار کر سکتی ہے۔
ماہرین نے زور دیا کہ ایم پاکس کا مخصوص علاج پاکستان میں دستیاب نہیں اور مریضوں کا علاج علامات کے مطابق کیا جاتا ہے۔
سادہ احتیاطی تدابیر جیسے دستانے، ماسک، صفائی اور مؤثر انفیکشن کنٹرول کے نظام سے بیماری کے پھیلاؤ کو روکا جا سکتا ہے۔
دیکھیں

