کئی بار خودکشی کی کوشش کی،ثنا یوسف کی والدہ رو پڑیں

news-banner

پاکستان - 10 اپریل 2026

 اسلام آباد میں 17 سالہ انفلوئنسر ثناء یوسف کے افسوسناک قتل کو تقریباً ایک سال گزرنے کے باوجود متاثرہ خاندان اب بھی انصاف کا منتظر ہے۔ 

 

ثناء یوسف کو جون 2025 میں ان کے گھر کے اندر گولی مار کر قتل کر دیا گیا تھا اور یہ واقعہ ملک بھر میں غم و غصے کا باعث بنا تھا۔ 

 

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کی والدہ نے اپنے غم کی شدت بیان کی اور بتایا کہ ایک وقت ایسا بھی آیا جب انہوں نے اپنی زندگی ختم کرنے کا سوچا، مگر اپنی بیٹی کی یاد نے انہیں حوصلہ دیا۔

 

 ان کا کہنا تھا کہ میں روز مرتی ہوں اور روز جیتی ہوں، کئی بار خودکشی کرنے کی بھی کوشش کی، میں نے بیٹی کے بغیر نہیں رہنا لیکن پھر سوچتی ہوں کہ نہیں بیٹی کو انصاف دلانا ہے۔ 

 

انہوں نے بتایا کہ بیٹی کو انصاف اس لیے بھی دلانا ہے تاکہ باقی بچیاں خود کو محفوظ محسوس کرسکیں اور یہ کہہ سکیں کہ ہمارے ساتھ کوئی ایسا نہیں کرے گا کیوں کہ ثنا کے ساتھ انصاف ہوا تھا تو ہمارے ساتھ بھی ہوگا۔

 

 ثنا یوسف کی والدہ نے کہا کہ میری ایک ہی بیٹی تھی اور وہ بہت بہادر تھی اور میں ہر جگہ اس کے ساتھ ہوتی تھی جب کہ میری بیٹی کے قتل کو ایک سال مکمل ہونے والا ہے لیکن اب تک مجھے انصاف نہیں ملا، میں صرف اتنا چاہتی ہوں کہ مجھے انصاف مل جائے اور مجرم کو کڑی سے کڑی سزا مل جائے۔