پاکستان - 16 اپریل 2026
امریکی حکومت کا غیر قانونی ٹیرف کی واپسی کے لیے آن لائن پورٹل لانچ کرنے کا اعلان
دنیا - 16 اپریل 2026
امریکی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ آئندہ ہفتے ایک نیا آن لائن پورٹل شروع کرنے جا رہی ہے جس کے ذریعے کاروباری ادارے ان ٹیرف کی واپسی کے لیے درخواست دے سکیں گے جنہیں سپریم کورٹ نے غیر قانونی قرار دیا ہے۔
اس اقدام کا مقصد متاثرہ کمپنیوں کو وہ رقوم واپس دلانا ہے جو مجموعی طور پر تقریباً 175 ارب ڈالر تک پہنچتی ہیں۔ یہ پیشرفت فروری 2026 میں امریکی سپریم کورٹ کے اُس فیصلے کے بعد سامنے آئی ہے جس میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے لگائے گئے ہنگامی ٹیرف کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کالعدم کر دیا گیا تھا۔
عدالت نے قرار دیا تھا کہ انتظامیہ نے انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ (آئی ای ای پی اے) کے تحت اپنے اختیارات سے تجاوز کیا۔
یو ایس کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن کی جانب سے جاری رہنما ہدایات کے مطابق یہ نیا نظام آئی ای ای پی اے کے تحت ٹیرف ریفنڈ کے دعوؤں کو ایک الیکٹرانک پلیٹ فارم کے ذریعے جمع کرانے میں مدد دے گا، تاکہ قانونی فیصلے کے مطابق درست درخواستوں پر کارروائی کی جا سکے۔
تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ عمل آسان نہیں ہوگا۔ کاروباری اداروں کو خود آگے بڑھ کر درخواستیں جمع کرانا ہوں گی جبکہ ریفنڈ صرف اُن ٹیرف پر مل سکے گا جو ابھی تک فائنل نہیں ہوئے یا گزشتہ 80 دنوں کے اندر کلیئر ہوئے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ تقریباً 37 فیصد متنازع رقوم ایک پیچیدہ قانونی صورتحال میں رہیں گی جسے حل ہونے میں برسوں لگ سکتے ہیں۔
سی بی پی کے مطابق منظور شدہ درخواستوں کی ادائیگی 60 سے 90 دن کے اندر کی جا سکتی ہے تاہم دستاویزات میں معمولی غلطی بھی تاخیر کا باعث بن سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اکثر کسٹمز بروکرز غلط ٹیرف کوڈز کے استعمال جیسے مسائل کا شکار ہو جاتے ہیں، جس سے مزید پیچیدگیاں پیدا ہوتی ہیں۔
اس صورتحال پر ردعمل دیتے ہوئے بعض ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یہ نظام مکمل طور پر مؤثر ثابت نہیں ہو سکے گا اور بہت سے کاروباری اداروں کے لیے رقوم کی واپسی کا عمل طویل اور مشکل ہو سکتا ہے۔ اسی وجہ سے کچھ مالیاتی ادارے اور ہیج فنڈز ان ریفنڈ کلیمز کو کاروباری کمپنیوں سے خریدنے میں بھی دلچسپی ظاہر کر رہے ہیں۔
کمپنی ’لرننگ ریسورسز‘ کے سی ای او رِک وولڈن برگ کے مطابق ان کی کمپنی کے دعوے تقریباً 12 ملین ڈالر تک کے ہو سکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ وہ فوری طور پر درخواست دیں گے لیکن حکومت کو چاہیے تھا کہ متاثرہ کمپنیوں کو خودکار طریقے سے رقم واپس کرتی، بجائے اس کے کہ انہیں پورٹل کے ذریعے درخواست دینے کا عمل اپنانا پڑے۔
دیکھیں

