پاکستان - 16 اپریل 2026
خبردار! موبائل کی پوشیدہ سیٹنگ، صرف ایک کوڈ اور آپ کا بینک اکاؤنٹ خالی
تازہ ترین - 16 اپریل 2026
موبائل فون میں موجود ایک بظاہر معمولی سیٹنگ اب صارفین کے لیے بڑا خطرہ بن کر سامنے آئی ہے، جہاں ہیکرز صرف ایک کوڈ کے ذریعے آپ کی کالز اور بینک سے متعلق حساس معلومات تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بروقت احتیاط نہ کی جائے تو یہ طریقہ کار آپ کی جمع پونجی تک کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔ حالیہ عرصے میں سامنے آنے والے اس نئے فراڈ میں ہیکرز کو نہ تو آپ کے پاس ورڈ کی ضرورت ہوتی ہے اور نہ ہی وہ براہِ راست او ٹی پی مانگتے ہیں۔ اس کے بجائے وہ ایک چالاک طریقہ اختیار کرتے ہیں جسے ’’کال فارورڈنگ اسکیم‘‘ کہا جاتا ہے، جس کے ذریعے صارف کو لاعلمی میں ہی نشانہ بنایا جاتا ہے۔
اس فراڈ میں دھوکے باز خود کو بینک اہلکار، کسٹمر سروس نمائندہ یا ڈیلیوری بوائے ظاہر کرتے ہیں اور کسی مسئلے کا بہانہ بنا کر صارف کو فون کرتے ہیں۔ وہ نہایت مہارت سے یہ تاثر دیتے ہیں کہ مسئلہ حل کرنے کے لیے فون سے ایک مخصوص کوڈ ڈائل کرنا ضروری ہے۔ یہ کوڈ عام طور پر 21# یا 401# ہوتا ہے۔ اکثر لوگ ان کی باتوں میں آ کر یہ کوڈز ڈائل کر دیتے ہیں، جو دراصل خطرے کی گھنٹی ثابت ہوتا ہے۔
جیسے ہی یہ کوڈ ڈائل کیا جاتا ہے، صارف کی کالز، میسجز اور او ٹی پی خفیہ طور پر کسی اور نمبر پر منتقل ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ یوں ہیکر باآسانی بینک اکاؤنٹ تک رسائی حاصل کر لیتا ہے اور مالی نقصان کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔ اس کے علاوہ واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا اکاؤنٹس بھی اس کے نشانے پر آسکتے ہیں۔
اس طریقہ واردات کی سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ اس میں کسی ایپ کو انسٹال کرنے یا او ٹی پی شیئر کرنے کی بھی ضرورت نہیں پڑتی، یعنی سارا عمل خاموشی سے مکمل ہو جاتا ہے اور صارف کو اس وقت تک کچھ پتہ نہیں چلتا جب تک نقصان ہو نہ جائے۔
اپنے موبائل کی کال فارورڈنگ خود چیک کریں
ماہرین کے مطابق صارفین کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر اپنے فون کی کال فارورڈنگ سیٹنگز چیک کریں۔ اس کے لیے مخصوص کوڈز #62# یا #21# ڈائل کرکے معلوم کیا جاسکتا ہے کہ آیا کالز کسی اور نمبر پر منتقل ہو رہی ہیں یا نہیں۔ اگر اسکرین پر کوئی نامعلوم نمبر ظاہر ہو تو فوراً اسے ہٹا دیں۔
کال فارورڈنگ بند کیجئے
اگر شک ہو کہ فون میں کال فارورڈنگ فعال ہو چکی ہے تو ایک مخصوص کوڈ ##002# کے ذریعے تمام فارورڈنگ سیٹنگز بند کی جا سکتی ہیں، جس سے ممکنہ نقصان سے بچاؤ ممکن ہے۔ حفاظتی تدابیر کے طور پر ماہرین سختی سے تاکید کرتے ہیں کہ کسی بھی نامعلوم کال پر کوئی کوڈ ڈائل نہ کیا جائے، نہ ہی اپنا او ٹی پی یا پن کسی کے ساتھ شیئر کیا جائے۔ اگر کوئی شخص کسی بہانے سے ایسا کرنے کو کہے تو فوراً کال ختم کر دیں۔
دیکھیں

