ٹھوس وجہ کے بغیر التوا مانگنے پر وکیل کیخلاف ہرجانے سمیت سخت کارروائی ہو گی، سپریم کورٹ

news-banner

پاکستان - 17 اپریل 2026

سپریم کورٹ میں کسی ٹھوس وجہ کے بغیر التوا مانگنے پر وکیل کے خلاف ہرجانے سمیت سخت کارروائی ہوگی۔ کیسز میں وکلا کی جانب سے التوا لینے کی روایت کے خلاف فیصلہ دیتے ہوئے سپریم کورٹ نے وکلا کو نوٹس جاری کردیا، چیف جسٹس آف پاکستان یحییٰ آفریدی نے تحریری حکمنامہ جاری کر دیا، غیر ضروری التوا کی درخواستوں پر درخواستگزار عباس علی کی درخواست مسترد کردی گئی۔

 

 سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ وکیل کو ذاتی مصروفیات کی مبہم بنیاد پر التوا دینا کسی قانونی منطق سے مطابقت نہیں رکھتا، التوا مانگنے کی روایت پیشہ ورانہ ڈسپلن کی کھلی خلاف ورزی ہے، سپریم کورٹ رولز 2025 کے تحت التوا صرف ایڈووکیٹ آن ریکارڈ کی درخواست پر مل سکتا ہے، رول کے تحت بغیر ٹھوس وجہ التوا مانگنے پر بھاری جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے، کاز لسٹ میں واضح ہدایات کے باوجود وکلا کی جانب سے قواعد کی خلاف ورزی پر افسوس ہے۔

 

 آئی ٹی ڈائریکٹوریٹ سپریم کورٹ کے اعداد و شمار کے مطابق جنوری سے مارچ 2026 کے دوران 653 التوا مانگے گئے، زیادہ تر التوا تب مانگے گئے جب عدالتیں تیار تھیں، جس سے قیمتی عدالتی وقت ضائع ہوا، التوا کا براہِ راست اثر عوامی خزانے پر پڑتا ہے کیونکہ نظامِ عدل عوام کے ٹیکس سے چلتا ہے، کیس مقرر ہونے پر عدالتی عملہ، انفرااسٹرکچر، سیکیورٹی، انتظامی وسائل استعمال ہوتے ہیں جو التوا سے ضائع ہو جاتے ہیں۔ س

 

پریم کورٹ کا کہنا ہے کہ غیر ضروری التوا انصاف تک رسائی کی راہ میں رکاوٹ اور آرٹیکل 10 اے کے تحت فیئر ٹرائل کے حق کے خلاف ہے، التوا کا حق کوئی استحقاق نہیں بلکہ صرف غیر معمولی حالات میں عدالت کی صوابدید ہے۔