انٹرٹینمنٹ - 18 اپریل 2026
ایران، امریکا کے وفود کی آمد کا معاملہ، اسلام آباد میں سیکیورٹی سخت
پاکستان - 18 اپریل 2026
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں مذاکرات کے لیے ایران اور امریکی وفود کی ممکنہ آمد کے پیش نظر سیکیورٹی سخت کردی گئی ہے اور پولیس کی جانب سے شہریوں کو اہم ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔
پولیس ذرائع نے بتایا کہ نور خان ائیربیس اور اسلام آباد ائیرپورٹ کے اطراف سیکورٹی ریڈ الرٹ کردی، ائیربیس کے ارگرد علاقوں کو سیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ پولیس ذرائع نے بتایا کہ سیکیورٹی کے غیرمعمولی انتظامات اعلیٰ سطح کے وفود کے طیاروں کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے ہیں، گھروں کی چھتوں پر پولیس اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔
سیکیورٹی اقدامات سے متعلق بتایا گیا کہ تھانہ نیوٹان، صادق آباد اور چکلالہ کی حدود میں اسپیشل سیکیورٹی حالات نافذ کردیے گئے ہیں، راولپنڈی پہلے مرحلے میں تین تھانوں کی حدود میں رات 12 بجے سے تاحکم ثانی ریسٹورنٹس بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، ریسٹورنٹس، پارکس، بیوٹی پارلرز، مارکیٹس بھی بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
پولیس ذرائع نے بتایا کہ اسنوکر کلبز، فٹنس جمز، پان شاپس، کھوکھے، باربر شاپس، بینک اور بیکریاں بھی تاحکم ثانی بند رکھی جائیں گی، اسی طرح ڈرون اڑانے، ہوائی فائرنگ، کبوتر بازی پر مکمل پابندی ہوگی اور پولیس نے تمام مارکیٹس میں انتباہی نوٹس تقسیم کرنا شروع کر دیے ہیں۔ پولیس ذرائع نے بتایا کہ احکامات پر عمل نہ کرنے کی ضرورت میں سخت کارروائی کی تنبیہ بھی کردی گئی۔
پولیس ذرائع نے بتایا کہ پبلک ٹرانسپورٹ اور گڈز ٹرانسپورٹ کی بندش کا فیصلہ تاحال نہیں ہوا۔ ذرائع نے بتایا کہ روٹس پر واقع عمارتوں کے مالکان سے سرٹیفکیٹس لینے کا عمل شروع کردیا گیا ہے اور وفود کی سیکیورٹی کے لیے خصوصی اقدامات، روٹ پر آنے والے گھروں، دکانوں، پلازوں اور ہوٹلز کے مالکان ذمہ داریوں کے پابند ہوں گے۔
پولیس نے ہدایت کی ہے کہ روٹ کے دوران پارکنگ پر پابندی اور غیر متعلقہ افراد کے داخلے کی اجازت نہیں ہوگی، ہوٹلز اور گیسٹ ہاؤسز کے لیے سختی، مہمانوں کا مکمل ریکارڈ رکھنا اور روزانہ رپورٹ تھانے میں جمع کرانا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
انتظامیہ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ چھتوں، بالکنیوں اور کھڑکیوں سے نقل و حرکت محدود ہوگی اور خلاف ورزی پر مالک ذمہ دار ہوگا، کسی بھی مشکوک سرگرمی یا سیکیورٹی خلل کی صورت میں فوری اطلاع دینے کی ہدایت کی گئی ہے جبکہ خلاف ورزی پر قانونی کارروائی ہوگی۔
دیکھیں

