پاکستان - 20 اپریل 2026
50 دن کی ایران جنگ میں 50 ارب ڈالرز کے تیل کی کمی کیسے ہوئی؟
کاروبار - 20 اپریل 2026
ایران جنگ کے تقریباً 50 دنوں کے دوران دنیا کو بھاری معاشی نقصان اٹھانا پڑا، جس سے عالمی معیشت اگلے کئی برس تک متاثر رہے گی۔
بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق جنگ کے دوران دنیا 50 بلین ڈالرز سے زائد مالیت کے خام تیل سے محروم ہو چکی ہے۔ کیپلر کے اعداد و شمار کے مطابق عالمی منڈی میں 500 ملین بیرل سے زیادہ خام اور کنڈینسیٹ تیل کی کمی ہے، جو جدید تاریخ میں توانائی کی فراہمی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی اس کمی کو آسان الفاظ میں اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے کہ دنیا بھر میں 10 ہفتوں تک ہوائی سفر مکمل طور پر بند رہے یا 11 دن تک دنیا میں کسی بھی قسم کی گاڑی نہ چلے یا پھر 5 دن تک پوری عالمی معیشت کو تیل کی فراہمی نہ ہو۔
بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق تیل کی یہ کمی امریکا میں تیل کی تقریباََ 1 ماہ کی ضروریات یا یورپ کی 1 ماہ سے زائد کی ضروریات کو پورا کرنے کے برابر ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تیل کی یہ مقدار امریکی فوج کی تقریباً 6 سال کی ضروریات یا عالمی شپنگ انڈسٹری کو 4 ماہ تک چلانے کے لیے کافی تھی۔ مارچ کے دوران خلیجی ممالک میں یومیہ تقریباً 80 لاکھ بیرل تیل کی پیداوار متاثر ہوئی، جو کہ دنیا کی بڑی تیل کمپنیوں کی مجموعی پیداوار کے قریب ہے۔
سعودی عرب، قطر، امارات، کویت، بحرین اور عمان سے جیٹ فیول کی برآمدات میں بھی نمایاں کمی دیکھنے میں آئی۔ فروری میں تیل کی برآمدات تقریباً 1 کروڑ 96 لاکھ بیرل تھیں جو مارچ اور اپریل میں کم ہو کر صرف 41 لاکھ بیرل رہ گئیں اور یہ کمی تقریباً 20 ہزار بین الاقوامی پروازوں کے ایندھن کے برابر ہے۔
ماہرین کے مطابق جنگ کے دوران تیل کی اوسط قیمت 100 ڈالرز فی بیرل رہی، جس کے باعث یہ مجموعی نقصان تقریباً 50 ارب ڈالرز بنتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ خام تیل کا یہ نقصان جرمنی کی سالانہ معیشت کے ایک فیصد کے برابر یا لٹویا اور ایسٹونیا جیسے ممالک کی مجموعی معیشت جتنا ہے۔
دیکھیں

