تازہ ترین - 27 اپریل 2026
پاکستان شدید غذائی بحران کے شکار 10 ممالک میں شامل
پاکستان - 27 اپریل 2026
اقوامِ متحدہ نے عالمی غذائی بحران سے متعلق ایک نئی رپورٹ جاری کی ہے۔ اس نئی رپورٹ میں پاکستان کو افغانستان، بنگلا دیش، کانگو، میانمار، نائجیریا، سوڈان، شام اور یمن کے ساتھ ان ممالک کی فہرست میں رکھا گیا ہے جہاں غذائی بحران سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2025ء کے دوران پاکستان میں تقریباً 1 کروڑ 10 لاکھ افراد شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں، ان میں سے تقریباً 93 لاکھ افراد کو بحران کی سطح پر جب کہ 17 لاکھ افراد کو ہنگامی حالت میں شمار کیا گیا ہے، جو کہ قحط کے بعد سب سے زیادہ خطرناک درجہ بندی ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان میں غذائی بحران کی ایک بڑی وجہ موسمیاتی تبدیلی ہے، خاص طور پر شدید بارشوں اور سیلاب نے ملک میں فصلوں اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچایا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2025ء میں مون سون کے دوران ہونے والی شدید بارشوں اور نتیجے میں آنے والا سیلاب زرعی پیداوار اور روزگار پر بری طرح اثر انداز ہوا، اس صورتِ حال کی وجہ سے 60 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے۔
رپورٹ میں غذا اور غذائیت سے متعلق کیے گئے تجزیے میں بلوچستان، سندھ اور خیبر پختون خوا کو سب سے زیادہ متاثرہ علاقے قرار دیا گیا ہے، تاہم یہ نشاندہی بھی کی گئی ہے کہ پاکستان کی صورتِ حال کا مکمل تجزیہ کرنے کے لیے مکمل اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں، جس کی وجہ سے بعض معاملات میں شدت کی واضح درجہ بندی ممکن نہیں ہو سکی۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان کو غذائی بحران کا شکار ممالک میں شامل کرنے کی وجوہات میں صحت کی سہولتوں تک محدود رسائی، صاف پانی اور صفائی کے مسائل، بیماریوں کا پھیلاؤ اور غذائیت کی کمی شامل ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی 2026ء میں تقریباً 6 فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے، جس کی وجہ سے ملک میں غذائی بحران مزید سنگین ہو سکتا ہے۔
دیکھیں

