وزیر اعظم کی سرمایہ کاروں کو سہولتیں دینے کی ہدایت

news-banner

پاکستان - 28 اپریل 2026

وزیراعظم شہباز شریف نے ملک میں سرمایہ کاری کے فروغ کو حکومت کی اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے برآمدات میں اضافے اور کاروباری ماحول کو آسان بنانے کے لیے ڈیجیٹائزیشن اور اصلاحات تیز کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔

 

 وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ملک میں سرمایہ کاری کے فروغ سے متعلق اعلیٰ سطح کا جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں اقتصادی ترقی کے لیے سرمایہ کاری کو ناگزیر قرار دیا گیا۔

 

 اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح ملک میں سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے اور برآمدات میں اضافے کے لیے ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کو ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے۔

 

 انہوں نے ہدایت کی کہ ریگولیٹری تعمیل کے عمل کو مزید آسان اور کم لاگت بنایا جائے تاکہ کاروباری سرگرمیوں کو فروغ مل سکے۔ وزیراعظم نے حکومت اور سرمایہ کاروں کے درمیان روابط مضبوط بنانے اور لائسنسنگ سمیت دیگر خدمات کے نظام کو تیزی سے ڈیجیٹائز کرنے پر زور دیا۔ 

 

انہوں نے کہا کہ اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل کے قیام سے سرمایہ کاروں کے اعتماد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ رواں مالی سال جولائی سے مارچ تک ملکی برآمدات میں خصوصی اقتصادی زونز کا حصہ 3.7 فیصد رہا، جبکہ مالی سال 2028 تک اسے بڑھا کر 8 فیصد تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

 

 بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ صوبوں کے ساتھ مشاورت سے سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے بزنس ریڈی ایکشن پلان تیار کیا جا رہا ہے، جبکہ سرمایہ کاروں کے لیے حکومتی اجازت ناموں کے حصول کو آسان بنانے کی غرض سے تمام خدمات کو ڈیجیٹائز کیا جا رہا ہے۔ اس مقصد کے لیے پاکستان ریگولیٹری رجسٹری قائم کی جا رہی ہے۔ 

 

اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ اس وقت ملک میں 21 خصوصی اقتصادی زونز فعال ہیں، جن کی تعداد جون 2026 تک بڑھ کر 26 ہو جائے گی۔ مزید بتایا گیا کہ آسان کاروبار ایکٹ کے تحت سرخ فیتے کا خاتمہ اور ڈیجیٹل سروسز کی فراہمی سرمایہ کاری میں مزید سہولت کا باعث بنے گی۔

 

 اجلاس میں وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی، معاون خصوصی ہارون اختر اور متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔