تازہ ترین - 02 مئی 2026
ایران کے ساتھ مسلح کشیدگی اب ختم ہو چکی،ٹرمپ
تازہ ترین - 02 مئی 2026
امریکی صدر ٹرمپ نے امریکی کانگریس کو ایک خط لکھ کر دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری مسلح کشیدگی اب ختم ہو چکی ہے۔
صدر ٹرمپ نے یہ خط کانگریس کے اسپیکر مائیک جونسن اور سینیٹ کے صدر چک گراسلی کے نام ارسال کیا، جس میں انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ 28 فروری سے شروع ہونے والی کشیدگی کا مرحلہ اب اختتام کو پہنچ گیا ہے۔
خط میں ٹرمپ نے لکھا کہ ان کی حکومت خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے کوشاں ہے، تاہم اس کے باوجود جنگ جاری رہنے کا امکان بھی موجود ہے۔ انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ ایران کے ساتھ تنازعہ مکمل طور پر حل نہیں ہوا اور صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے۔
دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کا مؤقف اختیار کر کے ٹرمپ انتظامیہ ممکنہ طور پر کانگریس سے باقاعدہ جنگی منظوری لینے کی آئینی ضرورت سے بچنا چاہتی ہے حالانکہ خطے میں امریکی افواج کی موجودگی برقرار ہے۔امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا ایران کے ساتھ جاری جنگ سے مقاصد کے حصول تک باہر نہیں نکلے گا۔
فلوریڈا میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگر امریکا اس وقت تنازع سے نکل گیا تو مسئلہ چند سال بعد دوبارہ پیدا ہوسکتا ہے اس لیے جب تک مقاصد حاصل نہیں کر لیتے ایران جنگ سے جلدی باہر نہیں نکل سکتے۔
امریکی صدر نے ایک بار پھر واضح کیا کہ ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران کو نہ روکا جاتا تو اسرائیل اور یورپ کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے تھے۔
اپنے خطاب میں صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کی بحریہ، فضائیہ اور قیادت کو شدید نقصان پہنچ چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی اعلیٰ قیادت ختم ہو چکی ہے، اگرچہ اس پر افسوس ہے لیکن ان کے بقول یہ عناصر خطرناک تھے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ وہ ایران کے معاملے پر اس وقت تک زیادہ بات نہیں کرنا چاہتے جب تک کارروائی مکمل نہ ہو جائے اور یہ بھی کہ یہ اقدامات ماضی کے امریکی صدور کو پہلے ہی کر لینے چاہیے تھے۔
انہوں نے آبنائے ہرمز کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہاں اس وقت تیل سے بھرے تقریباً 400 بحری جہاز موجود ہیں اور اگر یہ راستہ کھل جائے تو عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں نمایاں کمی آ سکتی ہے۔ صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ امریکا جلد بازی میں تنازع ختم نہیں کرے گا تاکہ مستقبل میں دوبارہ بحران پیدا نہ ہو۔
دیکھیں

