سپریم جوڈیشل کونسل کا اہم اجلاس: ججز کے خلاف 23 شکایات داخلِ دفتر، 6 ججز کے خط پر کارروائی موخر
سپریم جوڈیشل کونسل نے ججز کے خلاف 23شکایات داخل دفتر کردی ہیں جبکہ 6ججز کے خط پر کارروائی بھی موخر کردی گئی ہے۔
چیف جسٹس آف پاکستان، جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیرِ صدارت سپریم جوڈیشل کونسل کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں اعلیٰ عدلیہ کے ججز کے خلاف دائر شکایات اور کونسل کے داخلی احتسابی عمل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، اجلاس میں کونسل نے متفقہ طور پر مختلف ججز کے خلاف موصول ہونے والی 23 شکایات کو ٹھوس شواہد کی عدم دستیابی پر داخلِ دفتر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اجلاس کے دوران کونسل کے ایجنڈے میں خود احتسابی کا نظام سرِ فہرست رہا، جس کا مقصد عدالتی نظام میں شفافیت اور عوامی اعتماد کو مزید مستحکم کرنا ہے۔ اس موقع پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے 6ججز کی جانب سے لکھے گئے مراسلے پر بھی غور کیا گیا، تاہم کونسل نے رائے دی کہ چونکہ یہ معاملہ پہلے ہی سپریم کورٹ میں زیرِ التوا ہے، اس لیے اس پر کارروائی فی الحال موخر کردی جائے۔
کونسل نے ان تمام شکایات کے آئینی اور قانونی پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ججز کے خلاف تادیبی کارروائی کا اختیار صرف سپریم جوڈیشل کونسل کے پاس ہے اور اس عمل کو غیر جانبدارانہ خطوط پر استوار رکھا جائے گا۔ اجلاس کے باضابطہ فیصلے اور مزید سفارشات پر مبنی اعلامیہ جلد جاری کیے جانے کا امکان ہے۔