گندم کی ترسیل اور سی این جی بندش، خیبرپختونخوا حکومت اور اپوزیشن ایک پیج پر آگئے
صوبے میں سی این جی بندش کے معاملے پر خیبرپختونخوا حکومت اور اپوزیشن ایک پیج پر آگئے۔
پشاور میں گورنر خیبرپختونخوا اور اپوزیشن لیڈر کے ہمرا پریس کانفرنس کے دوران وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے ساتھ مسلسل زیادتی ہورہی ہے، قومی یکجہتی کو نقصان پہنچایا جارہا ہے، سی این جی اسٹیشنز بند کرنے سے عوام پریشان ہیں۔ خیبرپختونخوا کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جارہا ہے۔
اس موقع پر گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ سی این جی اسٹیشنز بند کرنا زیادتی ہے، وفاق کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں، صوبے کے ساتھ زیادتی نہیں ہونی چاہیے۔
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ خیبرپختونخوا کو پانی کا شیئر دیا جائے، وزیراعظم نے کے پی کے مسائل پر شہبازاسپیڈ نہیں دکھائی، خیبرپختونخوا کے مسائل پر شہبازاسپیڈ کا مظاہرہ کیا جائے۔ بڑے بھائی کا فرض ہے کہ وہ چھوٹے بھائی کا خیال رکھے۔
قائد حزب اختلاف خیبر پختونخواہ ڈاکٹرعباد اللہ نے کہا کہ سی این جی اور گندم کے ایشو سے عوام متاثر ہورہے ہیں، وفاقی حکومت سے رابطے میں ہوں کوشش ہے مسئلہ حل ہو۔ مرکز میں ہونے والے فیصلوں کےفورم میں خیبرپختونخوا کو نمائندگی دی جائے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ غلط پالیسیوں کا ملبہ کے پی پر ڈالا جا رہا ہے ،وفاقی حکومت کے پی کیساتھ زیادتی کر رہی ہے ، ہمیں بند گلی میں دھکیلنے کی کوشش کی جا رہی ہے ،ہمیں اپنے فیصلے مجبوراً خود کرنا پڑیں گے ، صوبے کے ساتھ سوتیلا سلوک کیا جا رہا ہے، ایک آزاد خیبرپختونخوا کو آ گے نہیں بڑھنے دیا جا رہا ۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ خیبرپختونخوا سستی ترین بجلی،تیل ،گیس پیدا کر رہا ہے ، کے پی کا غریب شہری مہنگا ترین آٹا خرید رہا ہے ، بدقسمتی ہے پنجاب مسلسل آ ئین کی خلاف ورزی کر رہا ہے ، پنجاب حکومت گندم کی ترسیل پر زیادتی کر رہی ہے ، کوئی بھی صوبہ خوراک کی ترسیل نہیں روک سکتا ، وفاق بھی پنجاب حکومت کو منع نہیں کر رہا ۔
انہوں نے کہا کہ اگر ہمیں اپنے حصے کا پانی مل جائے تو پورے ملک کو گندم دے سکتے ہیں۔