روس نے برطانوی وزیر دفاع کے طیارے کے سگنل جام کر دئیے
برطانوی وزیرِ دفاع جان ہیلی کو لے جانے والے رائل ایئر فورس کے ایک طیارے کا سگنل رواں ہفتے روسی سرحد کے قریب پرواز کے دوران جام کر دیا گیا۔
برطانوی اخبار ’دی ٹائمز‘ کے مطابق یہ واقعہ جمعرات کے روز اُس وقت پیش آیا جب جان ہیلی ایسٹونیا میں تعینات برطانوی فوجیوں سے ملاقات کے بعد برطانیہ واپس جا رہے تھے۔
اطلاعات کے مطابق اس سائبر حملے کے پیچھے روس کا ہاتھ ہونے کا شبہ ہے۔ حملے کے باعث طیارے کا جی پی ایس نظام تقریباً تین گھنٹے تک معطل رہا، جس کے بعد پائلٹس کو متبادل نیویگیشن سسٹم استعمال کرنا پڑا۔
یہ واقعہ اُس خبر کے سامنے آنے کے ایک دن بعد سامنے آیا ہے کہ جس میں یہ بتایا گیا تھا کہ گزشتہ ماہ بحیرۂ اسود کے اوپر دو روسی جنگی طیاروں کی جانب سے ایک برطانوی جاسوس طیارے کو ’بار بار اور خطرناک انداز‘ میں روکنے کی خبر منظرِ عام پر آئی تھی۔
تاحال یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آیا جان ہیلی کو دانستہ طور پر نشانہ بنایا گیا تھا یا نہیں، تاہم اخبار کے مطابق طیارے کی پرواز کا راستہ ایئرکرافٹ ٹریکنگ ویب سائٹس پر دیکھا جا سکتا تھا۔
برطانوی وزارتِ دفاع سے اس معاملے پر مؤقف جاننے کے لیے رابطہ کیا گیا ہے۔
ایسٹونیا کے دورے کے دوران جان ہیلی نے روسی سرحد کے قریب نیٹو کی فوجی مشقوں میں حصہ لینے والے برطانوی فوجی اہلکاروں سے بھی ملاقات کی۔
گزشتہ ماہ پیش آنے والے واقعے میں ایک روسی ایس یو 35 جنگی طیارہ برطانوی نگرانی کرنے والے ریویٹ جوائنٹ طیارے کے انتہائی قریب آ گیا تھا، جس کے باعث طیارے کا ہنگامی دفاعی نظام فعال ہو گیا اور آٹو پائلٹ نظام عارضی طور پر بند ہو گیا تھا۔
برطانوی وزارتِ دفاع کے مطابق یہ سنہ 2022 کے بعد روس کی جانب سے سب سے خطرناک کارروائی تھی، اُس وقت ایک ’بے قابو‘ روسی پائلٹ نے بحیرۂ اسود کے اوپر ایک ریویٹ جوائنٹ طیارے پر میزائل داغ دیا تھا۔