World

امریکی حکومت کیساتھ 64 ملین ڈالر کا فراڈ کرنےوالی پاکستانی نژاد خاتون کوقید وجرمانہ

امریکی حکومت کیساتھ 64 ملین ڈالر کا فراڈ کرنےوالی پاکستانی نژاد خاتون کوقید وجرمانہ
۱ منٹ پہلے

امریکی ریاست نیویارک میں پاکستانی نژاد 55 سالہ خاتون ذکیہ خان کو امریکی حکومت کے ہیلتھ کیئر پروگرام کے ساتھ تقریباً 64 ملین ڈالر کے فراڈ کے مقدمے میں 6 سال 4 ماہ قید کی سزا سنادی گئی، جبکہ عدالت نے 56 ملین ڈالر سے زائد رقم واپس ادا کرنے اور تقریباً 5 ملین ڈالر کے اثاثے ضبط کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔

 

دستیاب عدالتی اور امریکی محکمہ انصاف سے منسوب تفصیلات کے مطابق ذکیہ خان نے بروکلین کے علاقے کونی آئی لینڈ میں بزرگ شہریوں کے لیے دو سوشل ایڈلٹ ڈے کیئر سینٹرز قائم کر رکھے تھے، جن کے نام Happy Family Social Adult Day Care Center اور Family Social Adult Day Care Center بتائے گئے ہیں۔

 

رپورٹس کے مطابق ذکیہ خان ایک ہوم ہیلتھ کیئر کمپنی سے بھی وابستہ تھیں اور اکتوبر 2017 سے جولائی 2024 تک جاری رہنے والی اسکیم کے ذریعے امریکی سرکاری ہیلتھ پروگرام Medicaid سے بھاری رقوم حاصل کی گئیں۔

 

استغاثہ کے مطابق اس مقصد کے لیے ایسے افراد کو نقد رقم اور دیگر مراعات دے کر ڈے کیئر سینٹرز میں رجسٹر کرایا جاتا تھا جو Medicaid سے مستفید ہونے کے اہل تھے، جبکہ بعد میں ان کے نام پر ایسی خدمات کے بل بھی جمع کرائے جاتے جن کے بارے میں الزام تھا کہ وہ حقیقت میں فراہم ہی نہیں کی گئی تھیں۔

 

تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ مختلف افراد اور مارکیٹرز کے ذریعے لوگوں کو مراعات اور مبینہ کک بیکس دے کر سینٹرز سے منسلک کیا جاتا تھا، جس کے بعد Medicaid کو جعلی یا غیر حقیقی بلنگ کی جاتی رہی۔

 

رپورٹس کے مطابق 2023 میں ایک خفیہ ایجنٹ نے کلائنٹ بن کر ذکیہ خان کے دفتر کا دورہ کیا اور مبینہ طور پر انہیں نقد کک بیکس گنتے ہوئے خفیہ کیمرے میں ریکارڈ کیا گیا۔

 

ہوم لینڈ سیکیورٹی انویسٹی گیشنز اور ایف بی آئی کی مشترکہ تحقیقات کے بعد ذکیہ خان اور ان کے دیگر ساتھیوں کے خلاف کارروائی کی گئی اور اکتوبر 2024 میں انہیں گرفتار کرکے مقدمہ درج کیا گیا۔

 

بعد ازاں اگست 2025 میں ذکیہ خان نے وفاقی عدالت میں امریکی حکومت کو دھوکا دینے، ہیلتھ کیئر فراڈ اور غیر قانونی کک بیکس سے متعلق سازش میں اپنے جرم کا اعتراف کرلیا۔

 

مقدمے کی سماعت مکمل ہونے کے بعد نیویارک کی وفاقی عدالت میں جج نتاشا سی مرلے نے انہیں 76 ماہ، یعنی 6 سال اور 4 ماہ قید کی سزا سنائی۔

 

عدالت نے ذکیہ خان کو 56 ملین ڈالر سے زائد کی رقم بطور تلافی واپس کرنے کا بھی حکم دیا۔

 

دستیاب تفصیلات کے مطابق فراڈ اسکیم کے تحت مجموعی طور پر تقریباً 64 ملین ڈالر کے کلیمز کیے گئے تھے، جن میں سے لگ بھگ 56 ملین ڈالر کی ادائیگیاں سرکاری پروگرام کی جانب سے کی گئی تھیں۔

 

عدالتی کارروائی کے تحت تقریباً 5 ملین ڈالر مالیت کے اثاثے بھی ضبط کیے گئے، جن میں نیویارک کی دو جائیدادیں، نقد رقم اور سونے کے زیورات شامل بتائے گئے ہیں۔

 

ذکیہ خان کے حوالے سے بعض رپورٹس میں انہیں کم تعلیم یافتہ یا نیم خواندہ قرار دیا گیا ہے، تاہم فراہم کردہ تفصیلات میں ان کی باقاعدہ تعلیمی قابلیت کی آزادانہ تصدیق موجود نہیں۔

 

اسی طرح امریکی عدالتی اور تحقیقاتی ریکارڈ میں ان کی موجودہ رہائش بروکلین، نیویارک بتائی گئی ہے، تاہم پاکستان میں ان کا مخصوص آبائی شہر یا ضلع اور ان کے امریکا منتقل ہونے کا درست سال عوامی طور پر سامنے نہیں آیا۔

 

اس کیس کو امریکا میں سرکاری ہیلتھ کیئر پروگرامز کے خلاف سامنے آنے والے بڑے فراڈ مقدمات میں شمار کیا جا رہا ہے، جس میں جعلی بلنگ، کک بیکس اور بزرگ شہریوں کے نام پر سرکاری فنڈز حاصل کرنے کے الزامات سامنے آئے۔

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں