مہر میں طے جائیداد منتقل نہ ہو تو شوہر کو اس کی قیمت بیوی کو ادا کرنا ہوگی،سپریم کورٹ
سپریم کورٹ نے حقِ مہر اور نکاح نامے سے متعلق اہم قانونی اصول طے کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ اگر بطور حقِ مہر مقرر کی گئی جائیداد کسی وجہ سے بیوی کے نام منتقل نہ ہوسکے تو اس سے بیوی کا حقِ مہر ختم نہیں ہوگا اور نہ ہی شوہر اپنی قانونی ذمہ داری سے بری ہوگا۔
جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں چار رکنی بینچ نے تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا کہ اگر بطور مہر طے کی گئی جائیداد منتقل کرنا ممکن نہ رہے تو شوہر کو اس جائیداد کی طے شدہ قیمت بیوی کو ادا کرنا ہوگی۔ اگر نکاح نامے میں جائیداد کی قیمت درج نہ ہو تو عدالت دستیاب شواہد کی بنیاد پر اس کی مارکیٹ ویلیو کا تعین کرسکتی ہے۔
عدالت عظمیٰ نے واضح کیا کہ نکاح کو محض ایک عام سول یا تجارتی معاہدے کے طور پر نہیں دیکھا جاسکتا بلکہ یہ اپنی نوعیت کا ایک منفرد قانونی ادارہ ہے۔ اسی طرح حقِ مہر کو بیوی کی قیمت یا شادی کے بدلے کسی تجارتی معاوضے کے طور پر تصور نہیں کیا جاسکتا۔
فیصلے میں قرار دیا گیا کہ حقِ مہر بیوی کا لازمی، خصوصی اور قانوناً قابلِ نفاذ مالی حق ہے۔ نکاح ایجاب و قبول سے وجود میں آتا ہے جبکہ نکاح نامہ اس نکاح کا سرکاری ریکارڈ اور شادی کے معاہدے کا بنیادی دستاویزی ثبوت ہوتا ہے۔
سپریم کورٹ کے مطابق نکاح نامے میں درج معلومات کے درست ہونے کا قانونی مفروضہ قائم ہوگا، تاہم یہ مفروضہ حتمی نہیں ہوگا اور مضبوط و قابلِ اعتماد شواہد کے ذریعے اسے رد کیا جاسکتا ہے۔ اگر نکاح نامے میں کوئی اندراج مبہم یا متضاد ہو تو عدالت معاملے کے تعین کے لیے دیگر قابلِ قبول شواہد کا بھی جائزہ لے سکتی ہے۔
عدالت نے قرار دیا کہ نکاح نامے کے کالم 13 سے 16 کو الگ الگ دیکھنے کے بجائے باہم مربوط انداز میں پڑھا جائے گا۔ کالم 13 میں حقِ مہر نقد رقم یا جائیداد، دونوں صورتوں میں درج کیا جاسکتا ہے، جبکہ کالم 14 معجل اور مؤجل مہر اور کالم 15 ادا شدہ مہر سے متعلق ہے۔ کالم 16 میں حقِ مہر کے عوض دی جانے والی جائیداد کی تفصیلات درج کی جاتی ہیں۔
جسٹس شاہد بلال حسن نے مرکزی فیصلے سے اتفاق کرتے ہوئے الگ اضافی نوٹ تحریر کیا۔ انہوں نے قرار دیا کہ فریقین کی اصل نیت کا تعین بنیادی طور پر نکاح نامے سے کیا جانا چاہیے اور بعد میں کیے جانے والے زبانی دعوؤں کو نکاح نامے میں موجود تحریری اندراجات پر فوقیت نہیں دی جانی چاہیے۔
جسٹس شاہد بلال حسن نے اپنے اضافی نوٹ میں کہا کہ نکاح نامہ ایک لازمی قانونی فارم ہے اور اس کے ہر کالم کا الگ اور مخصوص مقصد ہے۔ انہوں نے نکاح رجسٹرارز کو ہدایت کی کہ تمام متعلقہ کالم انتہائی احتیاط کے ساتھ مکمل کیے جائیں۔
اضافی نوٹ میں کہا گیا کہ اگر جائیداد کو بطور حقِ مہر مقرر کیا جائے تو اس کی مکمل تفصیلات کے ساتھ اس کی قیمت بھی نکاح نامے میں درج ہونی چاہیے۔ اسی طرح اہم شرائط فریقین کو دستخط کرنے سے پہلے پڑھ کر سنائی جائیں اور کسی بھی کالم کو بلاوجہ خالی نہ چھوڑا جائے۔
سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ ان قانونی اصولوں کے تعین کے بعد انفرادی مقدمات کو ان کے اپنے حقائق اور میرٹ کی بنیاد پر متعلقہ بینچز الگ الگ سنیں گے۔