Breaking News

ڈاکٹر سمیہ کی ہراسانی کی شکایت،جوڈیشل کمیشن کا این سی سی آئی اے کوتحقیقات کاحکم

ڈاکٹر سمیہ کی ہراسانی کی شکایت،جوڈیشل کمیشن کا این سی سی آئی اے کوتحقیقات کاحکم
۱ منٹ پہلے

میر رضا کیس کی تحقیقات کرنے والے جوڈیشل کمیشن نے پولیس سرجن کراچی ڈاکٹر سمیہ سید کی جانب سے سوشل میڈیا پر مبینہ ہراسانی اور منفی مہم چلائے جانے کی شکایت کا نوٹس لیتے ہوئے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کو تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔

 

جیو نیوز کے مطابق کمیشن نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی ہے کہ معاملے کی فوری اور شفاف تحقیقات کی جائیں، جبکہ تحقیقات کے لیے ایک سینئر افسر مقرر کرنے کا بھی کہا گیا ہے۔

 

ڈاکٹر سمیہ سید نے کمیشن کے سامنے پیش ہوکر شکایت درج کرائی تھی کہ دوسرے پوسٹ مارٹم اور فارنزک رپورٹس کے بعد ان کے خلاف سوشل میڈیا اور دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر منظم منفی مہم چلائی جا رہی ہے۔

 

انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ پیشہ ورانہ ذمہ داریاں انجام دینے کے دوران ان پر بے بنیاد الزامات عائد کیے جا رہے ہیں، جس کے باعث ان کی ذاتی اور پیشہ ورانہ زندگی متاثر ہو رہی ہے۔

 

کمیشن نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی ہے کہ ڈاکٹر سمیہ کو آن لائن ہراساں کرنے، ان کے خلاف مبینہ پروپیگنڈا کرنے اور ان کی ساکھ متاثر کرنے والے اکاؤنٹس اور افراد کا سراغ لگایا جائے، جبکہ قانونی کارروائی کے بعد تفصیلی رپورٹ بھی پیش کی جائے۔

 

تحریری حکم نامے کے مطابق ڈاکٹر سمیہ نے الزام عائد کیا کہ ڈاکٹر اسامہ کی جانب سے ان کی گفتگو کے کچھ حصے ایڈٹ کرکے مخصوص میڈیا چینلز اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو فراہم کیے گئے۔

 

ڈاکٹر سمیہ نے کمیشن کو بتایا کہ وہ مکمل گفتگو کا ریکارڈ فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ان کے مطابق ڈاکٹر اسامہ کمیشن کے سامنے تین مرتبہ پیش ہو چکے ہیں لیکن مکمل ریکارڈ پیش نہیں کیا گیا۔

 

انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ ڈاکٹر اسامہ کمیشن کی حتمی رپورٹ کو تسلیم نہیں کر رہے اور ان کے بیانات سے ان کے طرزِ عمل پر سوالات اٹھتے ہیں۔

 

کمیشن نے سماعت کے دوران ڈاکٹر اسامہ اور ڈاکٹر سمیہ کے درمیان پیغامات کے تبادلے کی فارنزک جانچ کا بھی حکم دیا ہے تاکہ حقائق کی مکمل تصدیق کی جا سکے۔

 

دوسری جانب کمیشن نے کیس میں موجود سائنسی شواہد، سیکنڈ پوسٹ مارٹم بورڈ رپورٹ، کرائم سین سے حاصل ہونے والے کیمیکل اور فارنزک شواہد کا جائزہ بھی جاری رکھا ہوا ہے۔

 

کمیشن نے متعلقہ فارنزک حکام کو ہدایت کی ہے کہ شواہد کی بروقت پروسیسنگ یقینی بنائی جائے، جبکہ سابق تفتیشی افسران کی جانب سے ممکنہ غفلت کے معاملات کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔

 

جوڈیشل کمیشن کا کہنا ہے کہ کیس کے حقائق اور سائنسی شواہد کی موجودگی میں ذاتی نوعیت کے متنازع بیانات کو کارروائی کو متاثر کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں