Sports

ماؤ زے تنگ سے متعلق متنازع بیان ،چینی کمپنیوں نے ایمباپے سے معاہدے ختم کر دیے،فٹبالر کی معذرت

ماؤ زے تنگ سے متعلق متنازع بیان ،چینی کمپنیوں نے ایمباپے سے معاہدے ختم کر دیے،فٹبالر کی معذرت
۱ منٹ پہلے

ریال میڈرڈ کے فرانسیسی فٹبال سٹار کائیلیان ایمباپے کے چین کے سابق رہنما ماؤ زے تنگ سے متعلق مبینہ متنازع بیان کے بعد چین کے سرکاری نشریاتی ادارے نے ہسپانوی فٹبال لیگ لالیگا کے میچز کی نشریات معطل کردی ہیں۔ ایمباپے نے معاملے پر معافی بھی مانگ لی ہے، تاہم چین کی تین بڑی کمپنیوں نے ان کے ساتھ سپانسرشپ معاہدے ختم کرنے کا اعلان کردیا، جبکہ چینی فٹبال ایسوسی ایشن نے ایمباپے اور ان کے کلب ریال میڈرڈ سے باضابطہ عوامی معافی کا مطالبہ کیا ہے۔ 

ہسپانوی نیوز ایجنسی اور امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس سے منسوب رپورٹس کے مطابق تنازع اس وقت شروع ہوا جب سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں ایمباپے اپنے پسندیدہ انٹرنیٹ میم کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے دکھائی دیے۔ 

رپورٹس کے مطابق ویڈیو میں فرانسیسی فٹبالر نے ایک شخص کے لیے ’چینی آمر‘ کے الفاظ استعمال کیے، جبکہ متعلقہ میم میں ایمباپے کا چہرہ چین کے سابق رہنما ماؤ زے تنگ کی تصویر پر لگایا گیا تھا۔ 

تاہم وائرل ویڈیو کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی، اس لیے تبصرے کا مکمل پس منظر واضح نہیں ہے۔ 

اس واقعے کے بعد چین میں سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا اور ایمباپے کے خلاف کارروائی کے ساتھ ان سے متعلق اشتہارات ہٹانے کے مطالبات کیے گئے۔ 

چینی سوشل میڈیا پر تنازع شدت اختیار کرنے کے بعد ایمباپے نے منگل کو اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے معافی مانگ لی۔ 

انہوں نے اعتراف کیا کہ ان کا تبصرہ غیر محتاط تھا اور اب انہیں احساس ہوا ہے کہ اس سے چین اور دنیا بھر میں موجود چینی برادری کے لوگوں کے جذبات مجروح ہوئے۔ 

فرانسیسی فٹبالر نے کہا کہ ان کا کسی کو دکھ پہنچانے کا ارادہ نہیں تھا اور وہ چینی عوام اور ان کی تاریخ کا گہرا احترام کرتے ہیں۔ 

تاہم معافی کے باوجود چین کی تین بڑی کمپنیوں نے ایمباپے کے ساتھ تجارتی تعاون ختم کرنے کا اعلان کردیا۔ 

ان کمپنیوں میں مشروبات بنانے والی ڈونگ پینگ، ڈیری مصنوعات تیار کرنے والی مینگنیو اور پنیر بنانے والی ملک گراؤنڈ شامل ہیں۔ 

تینوں کمپنیوں نے قومی جذبات کو ٹھیس پہنچانے والے بیانات اور اقدامات کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے فرانسیسی فٹبالر کے ساتھ سپانسرشپ معاہدے ختم کردیے۔ 

دوسری جانب چینی فٹبال ایسوسی ایشن نے بھی معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے ایمباپے اور ان کے کلب ریال میڈرڈ سے باضابطہ عوامی معافی کا مطالبہ کیا۔ 

اسی دوران چین کے سرکاری نشریاتی ادارے چائنا میڈیا گروپ، یعنی سی ایم جی، نے ہسپانوی فٹبال لیگ لالیگا کے میچز کی نشریات معطل کرنے کا اعلان کیا۔ 

چائنا میڈیا گروپ چین کے سرکاری ٹیلی ویژن نیٹ ورک سی سی ٹی وی کی نگرانی کرتا ہے۔ 

ادارے نے منگل کو جاری اپنے بیان میں بتایا کہ لالیگا کے میچز نشر نہیں کیے جائیں گے، جبکہ ایمباپے سے متعلق اشتہارات بھی نشریات سے ہٹا دیے جائیں گے۔ 

رپورٹس کے مطابق نشریاتی پابندی کا دائرہ ایمباپے سے متعلق دیگر مقابلوں تک بھی بڑھایا گیا ہے۔ 

اس اقدام کے باعث چین میں ہسپانوی فٹبال لیگ کے شائقین کو میچز دیکھنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، خصوصاً ان شائقین کو جو ریال میڈرڈ کے مقابلے دیکھتے ہیں۔ 

تاہم چینی نشریاتی ادارے نے یہ واضح نہیں کیا کہ لالیگا کی نشریات پر پابندی کتنے عرصے تک برقرار رہے گی یا انہیں کب بحال کیا جائے گا۔ 

رپورٹس میں شامل ماہرین کے اندازوں کے مطابق چین میں نشریات کی معطلی سے لالیگا کو 2030 تک تقریباً 400 ملین یورو، یعنی 40 کروڑ یورو، کے ممکنہ مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ 

البتہ یہ تخمینہ مستقبل کے ممکنہ معاشی اثرات سے متعلق ہے، کسی حتمی یا پہلے سے ہونے والے نقصان کی تصدیق نہیں۔ 

دوسری جانب ہسپانوی فٹبال لیگ لالیگا نے بھی تنازع پر ردعمل جاری کرتے ہوئے چینی شائقین کے جذبات مجروح ہونے پر افسوس کا اظہار کیا۔ 

لالیگا کی انتظامیہ نے واضح کیا کہ کائیلیان ایمباپے کے تبصرے ان کی ذاتی رائے تھے اور وہ ہسپانوی لیگ کے سرکاری مؤقف کی نمائندگی نہیں کرتے۔ 

لیگ نے آئندہ ایسے واقعات سے بچنے کے لیے کھلاڑیوں اور کلبوں کے لیے رابطے اور ابلاغ کا ایک طریقۂ کار وضع کرنے کا بھی اعلان کیا۔ 

واضح رہے کہ چین میں سابق رہنما ماؤ زے تنگ ایک تاریخی اور سیاسی طور پر حساس شخصیت سمجھے جاتے ہیں اور ان سے متعلق متنازع تبصرے شدید عوامی ردعمل کا باعث بن سکتے ہیں۔ 

ایمباپے کے مبینہ بیان سے شروع ہونے والا تنازع اب فٹبال نشریات، تجارتی سپانسرشپ اور چین میں ہسپانوی لیگ کے کاروباری مفادات تک پھیل گیا ہے۔ 

فرانسیسی فٹبالر کی معافی کے باوجود دستیاب رپورٹس میں اس بات کی کوئی تصدیق نہیں ہوئی کہ چینی کمپنیاں اپنے فیصلے واپس لیں گی یا سرکاری ٹیلی ویژن پر لالیگا کے میچز کی نشریات کب بحال ہوں گی۔

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں