ذہنی معذور بچی سے زیادتی کا ملزم اور کم عمر بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے والے ملزمان گرفتار
راولپنڈی اور لاہور میں بچوں کے خلاف مبینہ جرائم کے دو الگ واقعات میں پولیس نے ملزمان کو گرفتار کرلیا۔ راولپنڈی کے علاقے کلرسیداں میں ذہنی معذوری کی حامل 15 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی کی کوشش کے الزام میں ایک شخص کو گرفتار کیا گیا، جبکہ لاہور کے علاقے گڑھی شاہو میں کم عمر بچوں کی نازیبا ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر وائرل کرنے کے مقدمے میں بھی ایک ملزم کو حراست میں لے لیا گیا۔ پولیس نے ڈیجیٹل شواہد کی جانچ اور دیگر ممکنہ ملزمان کی شناخت کے لیے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی، این سی سی آئی اے، سے بھی مدد طلب کرلی ہے۔
راولپنڈی کے تھانہ کلرسیداں میں 15 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی کی کوشش کا مقدمہ متاثرہ بچی کے والد کی مدعیت میں درج کیا گیا۔
ایف آئی آر کے مطابق بچی کے والد نے پولیس کو بتایا کہ وہ مزدوری کرکے اپنے خاندان کی کفالت کرتے ہیں، جبکہ ان کی اہلیہ گھروں میں کام کرتی ہیں۔
درخواست گزار کے مطابق ان کی 15 سالہ بیٹی پیدائشی طور پر ذہنی معذوری کا شکار ہے اور عمومی طور پر گھر میں ہی رہتی ہے۔
والد نے اپنے بیان میں بتایا کہ وہ تقریباً صبح 11 بجے کام سے گھر واپس پہنچے تو مبینہ طور پر علاقے کے رہائشی اخلاق اسلم کو اپنی بیٹی کے ساتھ کچن میں قابلِ اعتراض حالت میں پایا۔
شکایت کنندہ کے مطابق ملزم ان کے اچانک گھر پہنچنے پر موقع سے فرار ہوگیا۔
واقعے کی اطلاع ملنے پر کلرسیداں پولیس نے متاثرہ بچی کے والد کی درخواست پر مقدمہ درج کرکے فوری کارروائی شروع کی۔
پولیس کے مطابق مبینہ زیادتی کی کوشش میں ملوث ملزم اخلاق اسلم کو گرفتار کرلیا گیا ہے اور واقعے کی مزید تفتیش جاری ہے۔
ایس پی صدر نے کہا کہ ملزم کے خلاف ٹھوس شواہد اکٹھے کرکے مقدمے کا چالان عدالت میں پیش کیا جائے گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ خواتین اور بچوں کو ہراساں کرنا یا انہیں جنسی تشدد کا نشانہ بنانا کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔
دوسری جانب لاہور کے علاقے گڑھی شاہو میں کم عمر بچوں سے متعلق نازیبا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے معاملے میں پولیس نے ایک ملزم کو گرفتار کرلیا۔
پولیس کے مطابق مقدمہ بچوں کی نازیبا ویڈیو بنانے اور اسے انٹرنیٹ پر پھیلانے کے معاملے پر درج کیا گیا ہے۔
تحقیقاتی حکام نے بتایا کہ ویڈیو کی تیاری اور اسے سوشل میڈیا پر وائرل کرنے میں مزید افراد کے ملوث ہونے کے امکان کا بھی جائزہ لیا جارہا ہے۔
پولیس نے ڈیجیٹل شواہد کے تجزیے اور ممکنہ ملزمان کی شناخت کے لیے این سی سی آئی اے کو باضابطہ مراسلہ ارسال کردیا ہے۔
حکام کے مطابق تحقیقات میں یہ پہلو بھی دیکھا جارہا ہے کہ آیا سوشل میڈیا چیلنجز کی آڑ میں کم عمر بچوں کو غیر اخلاقی یا غیر قانونی سرگرمیوں پر اکسایا گیا۔
ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے بچوں کو جرائم کے ٹاسک دینے اور انہیں سوشل میڈیا چیلنج کے طور پر پیش کرنے کے رجحان پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ بچوں کو جرم کرنے پر اکسانے یا انہیں غیر قانونی سرگرمیوں میں استعمال کرنے والے اصل کرداروں کو بھی قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
فیصل کامران نے واضح کیا کہ بچوں کو سوشل میڈیا کی سہولت فراہم کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ اس رسائی کو جرائم یا استحصال کا ذریعہ بننے دیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ پولیس ایسے عناصر کے خلاف کارروائی کررہی ہے جو آن لائن چیلنجز کی آڑ میں بچوں کو نقصان دہ سرگرمیوں کی طرف راغب کرتے ہیں۔
ڈی آئی جی آپریشنز نے والدین سے اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں کی آن لائن سرگرمیوں پر نظر رکھیں اور انہیں سوشل میڈیا کے ممکنہ خطرات سے آگاہ کریں۔
انہوں نے کہا کہ کسی بھی مشکوک سرگرمی، غیر اخلاقی مواد یا بچوں کو جرائم کی طرف مائل کرنے کی کوشش سامنے آنے پر فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی جائے۔
راولپنڈی اور لاہور میں سامنے آنے والے ان الگ واقعات نے بچوں کے تحفظ، ذہنی معذوری کے حامل کم عمر افراد کی سلامتی اور سوشل میڈیا کے ذریعے ممکنہ استحصال سے متعلق خدشات کو اجاگر کیا ہے۔
دونوں مقدمات میں پولیس نے ملزمان کی گرفتاری کی اطلاع دی ہے، تاہم الزامات کا حتمی تعین عدالتی کارروائی کے ذریعے ہوگا۔ متاثرہ کم عمر بچوں کی شناخت ان کی نجی زندگی اور تحفظ کے پیش نظر ظاہر نہیں کی گئی۔