پاکستان - 09 مارچ 2026
دل کے ماہر ڈاکٹر کا انتباہ: پانچ عام ادویات خاموشی سے دل کو نقصان پہنچا سکتی ہیں
تازہ ترین - 02 دسمبر 2025
امریکا کے معروف کارڈیالوجسٹ ڈاکٹر دیمتری یارانوف نے خبردار کیا ہے کہ دل کی صحت کے لیے احتیاط ضروری ہے، خصوصاً ان ادویات کے استعمال میں جو بظاہر عام سمجھی جاتی ہیں مگر وقت کے ساتھ دل کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مریضوں کو دوا لینے سے پہلے ہمیشہ اس کے مضر اثرات پر غور کرنا چاہیے۔
ڈاکٹر یارانوف کے مطابق ذیل کی 5 ادویات دل اور خون کی نالیوں کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتی ہیں:
1. سوزش کش (NSAIDs) ادویات
نان اسٹرائیڈل اینٹی انفلامیٹری دوائیں (جیسے آئبوپروفین) ہائی بلڈ پریشر اور دل کی بیماری میں مبتلا افراد کے لیے خاص طور پر نقصان دہ ہوسکتی ہیں۔
ان کا باقاعدہ استعمال دل پر دباؤ بڑھاتا ہے۔
2. ذیابیطس کی پرانی نسل کی ادویات
کچھ پرانی ادویات جیسے روزِیگلیٹازون دل فیل ہونے کے خطرے میں اضافہ کرتی ہیں۔
اس وجہ سے ماہرین اب جدید اور دل دوست دوائیں تجویز کرتے ہیں۔
3. ناک کھولنے والی ادویات (Decongestants)
نزلہ، زکام اور الرجی میں استعمال ہونے والی ادویات جن میں سڈو ایفیڈرین شامل ہو، خون کی نالیوں کو تنگ کرتی ہیں۔
اس سے بلڈ پریشر بڑھ جاتا ہے اور دل کی دھڑکن بے ترتیب ہو سکتی ہے۔
4. کیموتھراپی کی کچھ ادویات
ڈوکسوروبیسن اور ٹراسٹوزوماب جیسی ادویات سرطان کے علاج میں مؤثر ہیں لیکن طویل استعمال سے دل کے پٹھے کمزور ہو سکتے ہیں اور دل کی پمپنگ صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔
5. توجہ بڑھانے والی محرک ادویات (Stimulants)
اے ڈی ایچ ڈی کے علاج میں استعمال ہونے والی ایمفیٹامینز دھڑکن اور بلڈ پریشر تیز کر دیتی ہیں۔
دل کے مریضوں میں ان کا استعمال خطرناک، حتیٰ کہ ہارٹ اٹیک تک کا سبب بن سکتا ہے۔
ڈاکٹر یارانوف کے مطابق محرکات کا غلط یا غیر نگرانی میں استعمال شدید ضمنی اثرات جیسے بے چینی، لت اور بے قابو دل کی دھڑکن پیدا کر سکتا ہے، اس لیے ہر دوا معالج کے مشورے سے ہی استعمال کرنی چاہیے۔
دیکھیں

