دنیا - 05 دسمبر 2025
جنوبی کوریا نے ہزاروں آئی پی کیمرے ہیک کر کے جنسی مواد بنانے اور فروخت کرنے کے الزام میں چار افراد کو گرفتار کر لیا
دنیا - 02 دسمبر 2025
جنوبی کوریا میں پولیس نے چار افراد کو گرفتار کیا ہے جن پر الزام ہے کہ انہوں نے گھروں اور کاروباری مقامات پر نصب 1 لاکھ 20 ہزار سے زائد آئی پی کیمرے ہیک کیے اور ان کی فوٹیج کو استعمال کرتے ہوئے جنسی طور پر استحصالی ویڈیوز بنا کر ایک غیر ملکی ویب سائٹ پر بیچی۔
پولیس کے مطابق ملزمان نے کمزور سیکیورٹی والے کیمروں کو نشانہ بنایا جن کے پاس ورڈ انتہائی آسان تھے۔
آئی پی کیمرے، جو سی سی ٹی وی کا سستا متبادل ہیں، عام طور پر گھر کی نگرانی یا بچوں اور پالتو جانوروں پر نظر رکھنے کے لیے انٹرنیٹ سے منسلک کیے جاتے ہیں۔
ہیک کیے گئے کیمروں میں نجی گھر، کراؤکے رومز، ایک پیلیٹس اسٹوڈیو اور ایک گائناکالوجی کلینک بھی شامل تھے۔
نیشنل پولیس ایجنسی نے بتایا کہ چاروں ملزمان ایک دوسرے سے آزادانہ طور پر کام کرتے تھے اور ان میں باہمی رابطہ نہیں تھا۔
ایک ملزم نے مبینہ طور پر 63 ہزار کیمرے ہیک کیے اور 545 ویڈیوز بنائیں جنہیں تقریباً 3 کروڑ 50 لاکھ وون کے ورچوئل اثاثوں کے بدلے فروخت کیا گیا۔
دوسرے ملزم نے 70 ہزار کیمرے ہیک کر کے 648 ویڈیوز بنائیں اور 1 کروڑ 80 لاکھ وون میں فروخت کیں۔
یہ دونوں ملزمان گزشتہ ایک سال میں اس غیر قانونی ویب سائٹ پر پوسٹ ہونے والے تقریباً 62 فیصد مواد کے ذمہ دار تھے۔ پولیس اب اس ویب سائٹ کو بند کرنے اور اس کے آپریٹر کی تلاش میں غیر ملکی اداروں سے تعاون کر رہی ہے۔
پولیس نے ان تین افراد کو بھی گرفتار کر لیا ہے جن پر ان ویڈیوز کو خریدنے اور دیکھنے کا الزام ہے۔
سائبر انویسٹی گیشن کے سربراہ پارک وو ہیون نے کہا کہ آئی پی کیمروں کی ہیکنگ اور غیر قانونی فلم بندی متاثرین کے لیے شدید اذیت کا باعث بنتی ہے اور یہ سنگین جرم ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایسی ویڈیوز دیکھنا یا رکھنے بھی جرم ہے۔
حکام نے 58 مقامات پر متاثرین سے رابطہ کر کے انہیں پاس ورڈ تبدیل کرنے کی ہدایت دی ہے اور انہیں ویڈیوز ہٹانے اور بلاک کرنے میں مدد فراہم کر رہے ہیں۔ پولیس نے زور دیا کہ آئی پی کیمرے استعمال کرنے والے افراد کو لازمی طور پر چوکنا رہنا چاہیے اور اپنے پاس ورڈ باقاعدگی سے تبدیل کرنے چاہئیں۔
دیکھیں

