Business

اوگرا نے 60 ارب روپے وصولی کا فیصلہ بدل دیا، آر ایل این جی صارفین کو بڑا ریلیف

اوگرا نے 60 ارب روپے وصولی کا فیصلہ بدل دیا، آر ایل این جی صارفین کو بڑا ریلیف
۱۵۸ دن پہلے

اسلام آباد: آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے 60 ارب روپے کی وصولی پر اپنا پہلے کا فیصلہ تبدیل کر دیا ہے، جس سے آر ایل این جی صارفین کو خاطر خواہ ریلیف ملے گا۔

 

تفصیلات کے مطابق اوگرا نے اپریل 2015 سے جون 2022 تک کی مدت کے دوران آر ایل این جی کی اصل قیمتوں کی وصولی سے متعلق 60 ارب روپے کی ریکوری پر نظرِ ثانی کی ہے۔

 

نئے فیصلے کے تحت آر ایل این جی صارفین یہ رقم 24 ماہانہ اقساط میں ادا کریں گے جبکہ تاخیر سے ادائیگی پر عائد ہونے والا سرچارج ختم کر دیا گیا ہے۔

 

اوگرا کا کہنا ہے کہ اگر کسی صارف کو حقیقی مالی مشکلات درپیش ہوں تو اس کی درخواست پر ایس این جی پی ایل خصوصی اقساط کا منصوبہ منظور کر سکتی ہے، تاہم ایک بار اقساط طے پا جانے کے بعد تاخیر کی صورت میں لیٹ پیمنٹ سرچارج ایس این جی پی ایل کی پالیسی کے مطابق لاگو ہوگا۔

 

اس فیصلے سے بجلی کا شعبہ، برآمدی صنعتیں، کھاد ساز ادارے اور سی این جی سیکٹر 60 ارب روپے میں سے اپنا حصہ 24 اقساط میں بغیر کسی تاخیر کے سرچارج کے ادا کریں گے۔

 

یہ فیصلہ ان برسوں پر محیط تنازعات کے بعد سامنے آیا ہے جو اپریل 2015 سے جون 2020 کے درمیان اوگرا کی جانب سے عارضی آر ایل این جی قیمتیں جاری کرنے کے باعث پیدا ہوئے تھے۔

 

بعد ازاں جب اوگرا نے اصل قیمتوں کا تعین کیا تو اسے 59.8 ارب روپے کا فرق سامنے آیا، جس میں 51.3 ارب روپے کے تفریقی گیس چارجز اور تقریباً 8 ارب روپے جی ایس ٹی شامل تھا، جس میں تاخیر سے ادائیگی کا سرچارج شامل نہیں تھا۔

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں