World

اقوام متحدہ میں افغان طالبان کو سخت انتباہ، افغانستان کو دہشتگردی کا گڑھ قرار دے دیا گیا

اقوام متحدہ میں افغان طالبان کو سخت انتباہ، افغانستان کو دہشتگردی کا گڑھ قرار دے دیا گیا
۱۵۱ دن پہلے

انسدادِ دہشتگردی اقدامات پر عملدرآمد میں ناکامی کے باعث اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں عالمی برادری نے افغان طالبان پر سخت تنقید کی اور دو ٹوک انتباہ جاری کیا۔ 

 

اجلاس کے دوران متعدد ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا کہ افغان سرزمین ایک بار پھر دہشتگرد تنظیموں کی سرگرمیوں کا مرکز بنتی جا رہی ہے، جس سے پاکستان سمیت پورا خطہ شدید خطرات سے دوچار ہے۔

 

اقوام متحدہ میں چین کے مستقل مندوب فو کانگ نے کہا کہ ٹی ٹی پی اور دیگر شدت پسند گروہ افغانستان میں متحرک ہیں اور ہمسایہ ممالک پر حملوں میں ملوث پائے گئے ہیں۔

 

 ڈنمارک کی نمائندہ کرسٹینا مارکس لاسن نے طالبان پر زور دیا کہ وہ القاعدہ، ٹی ٹی پی اور دیگر دہشتگرد تنظیموں کے خلاف عملی اقدامات کریں۔

 

پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے سلامتی کونسل کو آگاہ کیا کہ افغان سرزمین سے پاکستان پر دہشتگرد حملوں میں خطرناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے، جس میں طالبان کی ناکافی نگرانی، منصوبہ بندی اور مالی معاونت شامل ہے۔

 

امریکی مندوب نے بھی طالبان کو انسدادِ دہشتگردی سے متعلق وعدوں پر عمل نہ کرنے پر خبردار کیا، جبکہ پاناما اور ایران کے نمائندوں نے افغانستان میں داعش، ٹی ٹی پی اور دیگر گروہوں کی موجودگی پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔

 

 ایرانی مندوب سعید ایراوانی نے واضح کیا کہ افغان سرزمین کسی بھی پڑوسی ملک کے خلاف تشدد کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے۔

 

عالمی برادری کا مؤقف ہے کہ جب تک افغان طالبان دہشتگرد گروہوں کی سرپرستی ختم نہیں کرتے، خطے میں پائیدار امن کا قیام ممکن نہیں۔

 

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں