دنیا - 01 جنوری 2026
ماہرین صحت کا مشورہ: وزن کم کرنے کے لیے سخت ڈائٹس کی بجائے آسان اور دیرپا عادات اپنائیں
تازہ ترین - 01 جنوری 2026
ہر سال جنوری میں لوگ وزن کم کرنے کے لیے سخت ڈائٹ پلانز اپنانے کا رجحان رکھتے ہیں، مگر ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ پائیدار اور صحت مند وزن کم کرنے کے لیے خود پر سخت پابندیاں لگانا ضروری نہیں۔
اصل ضرورت یہ ہے کہ ایک ایسی روزمرہ روٹین بنائی جائے جو زندگی کے معمولات کے مطابق ہو اور طویل عرصے تک جاری رہ سکے۔
ماہرین کے مطابق متوازن غذا وزن کم کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ ہر پلیٹ میں آدھی مقدار سبزیوں، ایک چوتھائی پروٹین (دال، انڈے، چکن یا پنیر) اور ایک چوتھائی مکمل اناج یا کاربوہائیڈریٹس ہونی چاہیے۔
اس سے بھوک قابو میں رہتی ہے اور غیر ضروری کھانے سے بچاؤ ممکن ہوتا ہے۔
غذائی ماہرین کا کہنا ہے کہ غذا کم کرنے کے بجائے پروٹین اور فائبر بڑھانا زیادہ مؤثر ہے، کیونکہ یہ توانائی دیر تک برقرار رکھتے ہیں اور ہر وقت کچھ نہ کچھ کھانے کی خواہش کم کرتے ہیں۔
ناشتے میں پروٹین شامل کرنا اور رات کے کھانے کو ہلکا رکھنا بے جا اسنیکنگ سے بچاؤ میں مدد دیتا ہے۔
ماہرین صحت مند متبادل اپنانے پر بھی زور دیتے ہیں، جیسے تلی ہوئی چیزوں کی جگہ بھنے ہوئے اسنیکس، یا میٹھی چائے میں آہستہ آہستہ چینی کم کرنا۔
روزمرہ زندگی کے لیے منصوبہ بندی ضروری ہے، جیسے آسان اور فوری کھانے تیار رکھنا، فریز میں صحت مند غذا محفوظ کرنا، یا ایک وقت میں زیادہ پکانا تاکہ بھوک لگنے پر صحت مند غذا دستیاب ہو۔
وزن بڑھنے کی بڑی وجہ غیر ارادی زیادہ کھانا ہے، جس سے بچنے کے لیے چھوٹی پلیٹیں استعمال کریں، اسنیکس کو نظروں اور فریج سے دور رکھیں، اور دوسری بار پلیٹ بھرنے سے پہلے چند سیکنڈ توقف کریں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ میٹھا یا پسندیدہ کھانا مکمل طور پر چھوڑنے کی ضرورت نہیں بلکہ اسے ہفتے میں ایک دن تک محدود کریں۔
ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ ایک ساتھ کئی تبدیلیاں کرنے کی بجائے صرف دو آسان عادات اپنائیں، جیسے روزانہ پروٹین والا ناشتہ یا مناسب مقدار میں پانی پینا۔
اگر معمول کبھی ٹوٹ جائے تو اسے ناکامی کے بجائے سیکھنے کا موقع سمجھیں۔
اصل کامیابی خود پر سختی میں نہیں بلکہ ایسے ماحول بنانے میں ہے جہاں صحت مند انتخاب آسان ہو۔ یہی طریقہ وزن کم کرنے کو دیرپا اور قابلِ عمل بناتا ہے۔
دیکھیں

