ماہرین صحت: متوازن خوراک اور طرزِ زندگی ڈپریشن سے لڑنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں

news-banner

تازہ ترین - 01 جنوری 2026

ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ غیر صحت بخش روزمرہ عادات اور ناقص غذائی انتخاب ذہنی دباؤ اور ڈپریشن کا سبب بن سکتے ہیں۔

 

 ان کا کہنا ہے کہ متوازن طرزِ زندگی اور صحت مند خوراک ذہنی صحت کو بہتر بنانے میں نہایت اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

 

طبی ماہرین کے مطابق انسانی جسمانی اور دماغی صحت براہِ راست طرزِ زندگی سے جڑی ہے۔

 

 اگرچہ موٹاپے کو متعدد بیماریوں کی جڑ سمجھا جاتا ہے، تاہم بیشتر افراد صحت مند رہنے کے لیے متوازن غذا کی اہمیت کو نظر انداز کر دیتے ہیں اور آسانی سے دستیاب غیر معیاری خوراک استعمال کرتے ہیں۔

 

مسلسل غیر صحت مند غذا کھانے سے جسمانی بیماریاں تو بڑھتی ہیں، ساتھ ہی ذہنی دباؤ اور ڈپریشن میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔

 

 تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ دفاتر اور اداروں میں ڈپریشن کے شکار افراد کی تعداد تشویشناک حد تک زیادہ ہو سکتی ہے۔

 

 ماہرین کا کہنا ہے کہ افراد اپنے مزاج اور رویے میں تبدیلیوں سے اپنی ذہنی صحت کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔

 

ڈپریشن میں مبتلا افراد اکثر ادویات پر انحصار کرتے ہیں، مگر تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ صرف ادویات کافی نہیں ہوتیں۔

 

 ماحولیاتی عوامل، روزمرہ کی عادات اور خوراک میں تبدیلی ذہنی صحت کی بہتری میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔

غذائی اثرات اور ڈپریشن

 

آسٹریلیا کی یونیورسٹی آف میلبورن کی تحقیق کے مطابق دماغی صحت اور خوراک کا گہرا تعلق ہے۔

 

 دالیں، مچھلی، پھل اور سبزیوں کے زیادہ استعمال سے ڈپریشن کے خطرات میں نمایاں کمی آتی ہے۔

 

 چونکہ دماغ پروٹین، چکنائی اور امائنو ایسڈز پر مشتمل ہوتا ہے، میوہ جات، بیج اور مچھلی دماغی خلیات کی نشوونما اور مرمت میں مدد دیتے ہیں۔

 

غذائی عادات نیند اور توانائی کے نظام پر بھی اثر ڈالتی ہیں۔ رات میں غیر متوازن غذا اور دن میں سستی محسوس ہونا اس سے منسلک ہو سکتا ہے۔ تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ سمندری غذا کا استعمال بڑھانے اور فاسٹ فوڈ سے پرہیز کرنے سے ڈپریشن کی علامات میں کمی آتی ہے۔

 

بی ایم سی میڈیسن میں شائع ایک تحقیق کے مطابق سبزیاں، پھل، کم چکنائی والے دودھ کی مصنوعات، بغیر نمک کے میوہ جات، مچھلی، زیتون کا تیل اور انڈے ڈپریشن کے امکانات کو نمایاں کم کرتے ہیں، جبکہ فاسٹ فوڈ اور میٹھی اشیاء خطرہ بڑھاتی ہیں۔

 

جسمانی صحت کے فوائد

 

ماہرین کے مطابق کچھ غذائیں قدرتی دوا کے طور پر بھی کام کرتی ہیں۔

 

 سبز سبزیاں پھیپھڑوں کی حفاظت میں مددگار ہیں، فولک ایسڈ والی غذائیں خون کی کمی اور فالج کے خطرات کم کرتی ہیں، جبکہ سالمن مچھلی، مشروم، بروکلی، لہسن، ادرک اور ہلدی سوزش کم کرنے اور مدافعتی نظام مضبوط کرنے میں مددگار ہیں۔

 

 گرین ٹی، دہی، مالٹے، انار اور ٹماٹر جلد، بالوں اور مجموعی صحت کے لیے مفید ہیں۔