تھیلیسیمیا میں اضافہ قومی غفلت کا نتیجہ ہے: مصطفیٰ کمال

news-banner

تازہ ترین - 01 جنوری 2026

وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے پاکستان میں تھیلیسیمیا کے بڑھتے ہوئے کیسز پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ مسئلہ حکومت اور معاشرے کی اجتماعی غفلت کا نتیجہ ہے۔

 

نجی تھیلیسیمیا کیئر سینٹر میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے زور دیا کہ نکاح سے قبل لڑکے اور لڑکی دونوں کا تھیلیسیمیا ٹیسٹ لازمی ہونا چاہیے۔ 

 

ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ شادی سے پہلے ٹیسٹ نہیں کرواتے وہ ایک سنگین غفلت کے مرتکب ہو رہے ہیں، اور ایسے فیصلوں کے نتائج بچوں کی زندگیوں پر پڑتے ہیں۔

 

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ہم پولیو کے قطرے زبردستی پلواتے ہیں، مگر تھیلیسیمیا جیسے مہلک مرض کی روک تھام کے لیے سنجیدہ رویہ اختیار نہیں کرتے۔ عوام کو خود شعور پیدا کرنا ہوگا، ہر معاملے میں حکومت پر انحصار درست نہیں۔

 

انہوں نے مزید کہا کہ بون میرو ٹرانسپلانٹ کے عمل کو آسان بنایا جا رہا ہے اور اعضا کی خرید و فروخت پر پابندی کے باوجود رشتہ داروں کے درمیان عطیہ ممکن ہے۔

 

 ان کے مطابق ہمیں نئے اسپتال بنانے کے بجائے بیماریوں کی روک تھام پر توجہ دینی چاہیے۔

 

وفاقی وزیر صحت کا کہنا تھا کہ ڈاکٹرز کے مطابق 70 فیصد بیماریاں آلودہ پانی کے باعث پھیلتی ہیں، اور صاف پانی کی ذمہ داری صرف حکومت پر ڈالنے کے بجائے عوام کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔