پاک فضائیہ کی کارکردگی کے بعد دفاعی آرڈرز میں اضافہ، چھ ماہ میں آئی ایم ایف سے نجات ممکن، خواجہ آصف

news-banner

پاکستان - 07 جنوری 2026

اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ مئی 2025ء کے پاک بھارت تنازع میں پاکستانی فضائیہ کی غیرمعمولی کارکردگی کے بعد پاکستان کو دنیا بھر سے دفاعی سازوسامان کے بڑے آرڈرز موصول ہو رہے ہیں، جس سے ملکی معیشت کو سہارا مل سکتا ہے۔

 

ایک نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستانی طیاروں نے عملی میدان میں اپنی جدید صلاحیتیں ثابت کر دی ہیں، اور اب ان کی مانگ میں نمایاں اضافہ ہو چکا ہے۔ 

 

ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ تمام آرڈرز پایۂ تکمیل تک پہنچ گئے تو آئندہ چھ ماہ میں پاکستان کو آئی ایم ایف کی مالی معاونت کی ضرورت نہیں رہے گی۔

 

وزیر دفاع کے مطابق یہ آرڈرز عالمی سطح پر پاکستانی افواج کی صلاحیتوں کے اعتراف کا ثبوت ہیں اور مئی کے معرکے نے پاکستان کی عزت و وقار میں اضافہ کیا۔

 

بھارت کو خبردار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کسی بھی ممکنہ جارحیت کا بھرپور جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے، جیسا کہ مئی میں دیا گیا۔

 

 ان کے بقول اگر بھارت نے دوبارہ مہم جوئی کی تو اسے پہلے سے زیادہ سخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔

 

خواجہ آصف نے افغان طالبان کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ طالبان کسی بھی صورت قابل اعتماد نہیں، چاہے وہ کسی بھی فرنچائز سے تعلق رکھتے ہوں، اور ان پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔

 

انہوں نے خیبر پختونخوا کی حکومت پر الزام عائد کیا کہ صوبے میں دہشت گردی کو فروغ دیا جا رہا ہے اور سابق ادوار میں کی گئی پالیسیوں کے منفی اثرات آج بھی سامنے آ رہے ہیں۔

 

آخر میں وزیر دفاع نے واضح کیا کہ پاکستان کی مسلح افواج دنیا کی مضبوط ترین افواج میں شمار ہوتی ہیں اور ملک میں کسی بیرونی طرز کے آپریشن کا تصور بھی ممکن نہیں۔