گروک چیٹ بوٹ پر عالمی کریک ڈاؤن: انڈونیشیا اور ملائیشیا میں پابندی، برطانیہ بھی کارروائی کے قریب

news-banner

تازہ ترین - 12 جنوری 2026

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس کے اے آئی چیٹ بوٹ گروک کے حفاظتی انتظامات پر شدید سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، جس کے بعد انڈونیشیا اور ملائیشیا نے اس پر پابندی عائد کر دی ہے جبکہ برطانیہ نے بھی ایسی ہی کارروائی کی وارننگ دے دی ہے۔

 

غیر ملکی میڈیا کے مطابق جنسی نوعیت کے ڈیپ فیک مواد کے پھیلاؤ کے خدشات کے باعث دونوں ایشیائی ممالک میں گروک تک صارفین کی رسائی معطل کر دی گئی ہے۔

 

 حکام کا کہنا ہے کہ چیٹ بوٹ کے حفاظتی نظام ناکافی تھے، اسی لیے پابندیاں اس وقت تک برقرار رہیں گی جب تک ایکس اے آئی ریگولیٹرز کی ہدایات کے مطابق مؤثر حفاظتی اقدامات نافذ نہیں کرتا۔

 

انڈونیشیا کی وزیرِ مواصلات میوتیا حافظ نے کہا کہ غیر رضامندی پر مبنی جنسی ڈیپ فیکس انسانی وقار اور ڈیجیٹل تحفظ کی سنگین خلاف ورزی ہیں، جبکہ ملک میں فحش مواد کے خلاف سخت قوانین نافذ ہیں۔

 

ملائیشیا میں بھی اے آئی ٹولز کے غلط استعمال پر تحقیقات جاری ہیں، جو بھارت کی جانب سے ایکس کو دیے گئے نوٹس کے بعد مزید تیز ہو گئی ہیں۔ یورپی یونین، فرانس اور برطانیہ بھی ایکس اے آئی کے ضابطہ کار اور آن لائن سیفٹی قوانین کے تحت الگ الگ تحقیقات کر رہے ہیں۔

 

برطانیہ کی ٹیکنالوجی سیکریٹری لز کینڈل نے کہا ہے کہ اگر ایکس آن لائن سیفٹی ایکٹ کی خلاف ورزی کا مرتکب پایا گیا تو مکمل پابندی کی حمایت کی جائے گی۔ دوسری جانب ایلون مسک نے ان الزامات کو آزادی اظہار پر قدغن قرار دیتے ہوئے مسترد کیا ہے۔

 

حالیہ تحقیقات کے مطابق گروک ایسے اے آئی مواد تیار کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا جس میں جنسی تشدد، مشہور شخصیات کی نازیبا عکاسی اور حتیٰ کہ چائلڈ سیکسول ابیوز میٹیریل شامل ہو سکتا ہے، جو عالمی سطح پر شدید تشویش کا باعث بن گیا ہے۔