وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے دہشتگردی کے شواہد پر بیان حقائق کے منافی قرار

news-banner

پاکستان - 12 جنوری 2026

خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ کا دہشتگردی کے شواہد کے حوالے سے حالیہ بیان گمراہ کن اور حقائق کے منافی ہے۔

 

 تجزیہ کاروں کے مطابق وزیراعلیٰ جان بوجھ کر دہشتگردی کے خلاف قومی بیانیے میں ابہام پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، اور سہیل آفریدی کا افغانستان سے دہشتگردی کے شواہد طلب کرنا غیر ذمہ دارانہ اقدام ہے۔

 

پاکستان متعدد مواقع پر طالبان رجیم کو دہشتگردوں کی سہولت کاری کے مستند شواہد فراہم کر چکا ہے، جبکہ دیگر ہمسایہ ممالک بھی افغانستان کی دہشتگرد پالیسی سے متاثر ہیں۔

 

 ایران غیر قانونی افغان مہاجرین کو سکیورٹی وجوہات کی بنا پر واپس بھیج رہا ہے، اور تاجکستان میں گزشتہ سال افغانستان سے حملوں میں 5 چینی ورکرز ہلاک ہوئے۔

 

اقوام متحدہ، انسانی حقوق کی تنظیمیں اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ افغانستان کو دہشتگردوں کا مرکز قرار دے چکے ہیں۔

 

 اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی حالیہ رپورٹ میں بتایا گیا کہ داعش، ٹی ٹی پی، القاعدہ اور دیگر کالعدم تنظیمیں افغانستان میں فعال ہیں، جنہوں نے پاکستان پر حملے کیے۔

 

عالمی جریدے ’یوریشیا ریویو‘ اور ’دی ڈپلومیٹ‘ کی رپورٹس کے مطابق افغانستان بطور عالمی دہشتگرد پناہ گاہ بن چکا ہے، اور پاکستان میں ہونے والے دہشتگرد حملوں میں 70 فیصد افغانی شامل ہیں۔ 

 

مستند شواہد اور بین الاقوامی رپورٹس پاکستان کے موقف کی عالمی سطح پر توثیق کرتی ہیں۔