انٹرٹینمنٹ - 16 جنوری 2026
مارشل لا کی ناکام کوشش: جنوبی کوریا کے سابق صدر یون سُک یول اختیارات کے ناجائز استعمال کے جرم میں مجرم قرار
دنیا - 16 جنوری 2026
سیول – جنوبی کوریا کے معزول سابق صدر یون سُک یول کو 2024 میں مارشل لا نافذ کرنے کی ناکام کوشش پر اختیارات کے ناجائز استعمال اور سرکاری دستاویزات میں جعل سازی کا مجرم قرار دے دیا گیا ہے۔
سیول کی عدالت نے قرار دیا کہ یون نے صدارتی اختیارات کا غلط استعمال کیا، جس کے نتیجے میں ملک میں شدید سیاسی بحران اور عوامی احتجاج دیکھنے میں آیا۔
عدالت اس بات پر بھی غور کر رہی ہے کہ آیا انہوں نے گرفتاری سے بچنے کی کوشش کر کے انصاف کی راہ میں رکاوٹ ڈالی۔ استغاثہ نے ان الزامات پر 10 سال قید کی سزا کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ فیصلہ مارشل لا سے متعلق چار مقدمات میں پہلا ہے۔
دیگر مقدمات میں اختیارات کے غلط استعمال اور انتخابی قوانین کی خلاف ورزی شامل ہے، جبکہ سب سے سنگین الزام بغاوت (Insurrection) کا ہے، جس پر سزائے موت تک دی جا سکتی ہے۔
اس کیس کا فیصلہ فروری میں متوقع ہے۔
استغاثہ کے مطابق یون نے مارشل لا کے نفاذ سے قبل مکمل کابینہ سے مشاورت نہیں کی، صدارتی سکیورٹی اہلکاروں کے ذریعے گرفتاری روکنے کی کوشش کی، اور ایک جعلی دستاویز تیار کر کے بعد میں ضائع کر دی جس میں وزیراعظم اور وزیر دفاع کی منظوری ظاہر کی گئی تھی۔
یون سُک یول نے تمام الزامات مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ گرفتاری کا وارنٹ غیر قانونی تھا اور انہوں نے آئینی اختیارات کے تحت ہنگامی اقدام کیا۔
تاہم، استغاثہ کا کہنا ہے کہ ان کی جانب سے کسی ندامت کا اظہار نہ کرنا سخت سزا کی بنیاد بنتا ہے۔
یہ مقدمات جنوبی کوریا میں سیاسی تقسیم کو ایک بار پھر نمایاں کر رہے ہیں، جہاں یون کے حامی اب بھی انہیں مظلوم رہنما قرار دیتے ہیں، اور ایک سروے کے مطابق تقریباً 30 فیصد عوام مارشل لا کی کوشش کو بغاوت نہیں سمجھتے۔
دیکھیں

