وینزویلا کی نوبیل امن انعام یافتہ رہنما نے اپنا تمغہ صدر ٹرمپ کو پیش کر دیا

news-banner

دنیا - 16 جنوری 2026

واشنگٹن – وینزویلا کی اپوزیشن رہنما اور نوبیل امن انعام یافتہ ماریا کورینا ماچادو نے کہا ہے کہ انہوں نے وائٹ ہاؤس میں ایک نجی ملاقات کے دوران اپنا نوبیل امن انعام کا تمغہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو پیش کیا۔

 

ماچادو نے اس ملاقات کو وینزویلا کے عوام کے لیے ایک تاریخی لمحہ قرار دیا۔ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی جب چند ہفتے قبل امریکی فورسز نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو منشیات اسمگلنگ کے مقدمے میں گرفتار کیا تھا۔

 

صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اس اقدام کو باہمی احترام کی علامت قرار دیا۔

 

 اگرچہ وہ ماچادو کو آزادی کی جدوجہد کی علامت کہتے ہیں، تاہم انہوں نے انہیں وینزویلا کی نئی قیادت کے طور پر تاحال تسلیم نہیں کیا اور عبوری صدر ڈیلسے روڈریگز کے ساتھ رابطے جاری رکھے ہوئے ہیں۔

 

وائٹ ہاؤس سے باہر اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے ماچادو نے کہا کہ وینزویلا کے عوام صدر ٹرمپ پر بھروسہ کر سکتے ہیں۔

 

 بعد ازاں انہوں نے وضاحت کی کہ یہ تمغہ پیش کرنا وینزویلا کی آزادی کے لیے صدر ٹرمپ کے کردار کے اعتراف کی علامت ہے۔

 

نوبیل کمیٹی نے واضح کیا ہے کہ اگرچہ تمغہ کسی کو دیا جا سکتا ہے، لیکن نوبیل امن انعام کا اعزاز منتقل یا تقسیم نہیں کیا جا سکتا۔

 

 ماچادو کے مطابق یہ اقدام امریکا اور وینزویلا کے درمیان آزادی کے لیے تاریخی بھائی چارے کی علامت ہے۔

 

ماچادو نے واشنگٹن میں امریکی اراکینِ کانگریس سے بھی ملاقاتیں کیں، جبکہ ٹرمپ انتظامیہ مادورو کی برطرفی کے بعد وینزویلا کی تیل صنعت اور سفارتی تعلقات میں تیزی سے تبدیلیاں لا رہی ہے۔