طالبان رجیم کی حکمرانی کے مضر اثرات میں پاکستان سرفہرست: امریکی جریدہ

news-banner

دنیا - 18 جنوری 2026

بین الاقوامی جریدے دی ڈپلومیٹ کے مطابق طالبان رجیم کی حکمرانی کے منفی اثرات سب سے زیادہ پاکستان پر پڑے ہیں۔

 

 جریدے کے مطابق 2021 میں طالبان کی واپسی کو پاکستان نے خطے میں استحکام کا موقع سمجھا، مگر اس کے نتائج اس کے برعکس نکلے۔ 

 

طالبان کو سفارتی اور انسانی سطح پر بھرپور حمایت کے باوجود پاکستان کی داخلی سلامتی کی صورتحال مزید خراب ہوتی چلی گئی۔

 

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد پاکستان کو دہشت گردی کی نئی لہر کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ افغانستان میں ٹی ٹی پی، القاعدہ اور داعش خراسان جیسے دہشت گرد گروہ بدستور سرگرم ہیں۔

 

 افغان سرزمین مسلسل پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہو رہی ہے اور سرحد پار حملوں میں زیادہ تر ملوث عناصر تحریک طالبان پاکستان سے تعلق رکھتے ہیں۔

 

دی ڈپلومیٹ کے مطابق پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں افغان شہریوں کی شمولیت 70 فیصد تک پہنچ چکی ہے، جبکہ بھارت نے کابل میں دوبارہ سفارتی موجودگی قائم کر کے طالبان قیادت کے ساتھ روابط تیزی سے بڑھا دیے ہیں، جو پاکستان کے لیے ایک ابھرتا ہوا خطرہ ہے۔

 

جریدے کے مطابق دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان 80 ہزار سے زائد جانوں کی قربانی دے چکا ہے۔ 

 

ابتدا میں پاکستان نے تصادم کے بجائے مکالمے، ثالثی اور علاقائی سفارتکاری کو ترجیح دی۔ متحدہ عرب امارات کی ثالثی سے ٹی ٹی پی کی سرحدی علاقوں سے منتقلی پر اتفاق ہوا، مگر وعدوں کے باوجود طالبان نے عملی اقدامات نہیں کیے۔

 

وعدوں پر عمل نہ ہونے کے باعث پاکستان نے مکالمے کے ساتھ محدود عسکری کارروائی کی حکمتِ عملی اپنائی اور ستمبر و اکتوبر 2025 میں افغانستان میں ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، تاہم اس کے باوجود سفارتی راستے بند نہیں کیے گئے اور ترکی و قطر ثالثی کے عمل میں شامل رہے۔