انٹرٹینمنٹ - 03 فروری 2026
قومی اسمبلی میں بلوچستان میں دہشت گردی کے خلاف قرارداد منظور، کشمیریوں سے یکجہتی کا اظہار
پاکستان - 03 فروری 2026
اسلام آباد: قومی اسمبلی نے بلوچستان کے مختلف شہروں میں دہشت گردانہ حملوں کے خلاف متفقہ قرارداد منظور کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ دہشت گرد نیٹ ورکس خواتین کا استحصال کر کے انہیں ریاست اور معاشرے کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
قرارداد میں بلوچستان میں حالیہ دہشت گردانہ واقعات کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی، جن میں معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا گیا اور خواتین کو بطور ہتھیار استعمال کرنے جیسے غیر انسانی اور گھناؤنے طریقے اپنائے گئے۔
ایوان نے قرار دیا کہ دہشت گرد تنظیمیں زبردستی، ذہنی دباؤ، استحصال اور بلیک میلنگ کے ذریعے خواتین کو ریاست اور معاشرے کے خلاف استعمال کر رہی ہیں، جو اسلامی، پاکستانی اور بلوچ اقدار کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔
وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد میں شہری آبادی، خواتین اور بچوں پر حملوں کو ناقابلِ معافی جرائم قرار دیتے ہوئے ریاست سے مطالبہ کیا گیا کہ عدم برداشت کی پالیسی کے تحت ایسے عناصر کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کی جائے۔
قرارداد میں دہشت گردی میں بیرونی سرپرستی، بالخصوص بھارت کے ممکنہ کردار پر سنگین خدشات کا اظہار کیا گیا، جبکہ بعض ہمسایہ ممالک میں لاجسٹک و آپریشنل سہولت کاری، مالی معاونت اور تربیت کے ذریعے دہشت گردی کو فروغ دینے کی نشاندہی بھی کی گئی۔
ایوان نے مطالبہ کیا کہ بیرونی سرپرستوں اور اندرونی سہولت کاروں کے خلاف فوری اور مربوط قومی ردِعمل یقینی بنایا جائے، جس میں سیاسی، سفارتی، عسکری، انٹیلی جنس، قانونی اور بیانیاتی محاذ یکجا ہوں۔
قرارداد میں شہداء اور زخمیوں کے اہلِ خانہ سے اظہارِ تعزیت اور ہمدردی بھی کیا گیا۔
اس سے قبل رکن قومی اسمبلی نور عالم خان نے تجویز دی کہ قرارداد میں خیبر پختونخوا کو بھی شامل کیا جائے، کیونکہ وہاں دہشت گردی کے واقعات سب سے زیادہ ہو رہے ہیں، اور دہشت گردی کی ہر شکل کے خلاف آواز اٹھانا ضروری ہے۔
علاوہ ازیں قومی اسمبلی نے یومِ یکجہتی کشمیر کے موقع پر بھی متفقہ قرارداد منظور کی، جو قواعد معطل کر کے پیش کی گئی۔
قرارداد میں کہا گیا کہ جموں و کشمیر ایک عالمی تنازع ہے اور اسے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جانا چاہیے، جبکہ برطانوی پارلیمنٹ میں کشمیر سے متعلق بحث کو خوش آئند قرار دیا گیا۔
ایوان نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور 5 اگست 2019ء کے غیر قانونی یکطرفہ بھارتی اقدامات کی شدید مذمت کی، اور مطالبہ کیا کہ بھارت یہ اقدامات فوری طور پر واپس لے۔
قرارداد میں عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لے اور مسئلہ کشمیر کے حل میں فعال کردار ادا کرے، جبکہ مئی 2025ء کے معرکۂ حق کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مثبت بیانات کا خیر مقدم بھی کیا گیا۔
دیکھیں

